Al-Risala · October 1998 · page 7

زوجین کا درجہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۷

کے لیے ہے ، وہ ہی عزت و احترام دوسرے کے لیے بھی ہے ۔

البتہ میدانِ عمل (workplace) کے اعتبار سے دونوں میں کچھ فرق رکھا گیا ہے ۔ مرد کا میدانِ عمل بنیادی طور پر باہر ہے اور عورت کا میدانِ عمل بنیادی طور پر اندر ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورتیں باہر نہیں نکلیں گی ۔ مثال کے طور پر عورتوں کے اوپر بچوں کی تربیت کی ذمہ داری ہے ۔ اب اگر عورتیں بچوں کی تعلیم کے لیے اسکول جاتی ہیں تو یہ ان کے لیے اپنے میدانِ کار کی توسیع قرار دیا جائے گانہ کہ اس سے انحراف ۔

اسلام میں عورت کا درجہ کیا ہے ، اس کا اندازہ ایک حدیث سے ہوتا ہے ۔ امام البخاری نے حضرت عبد اللہ بن عباس سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ حضرت بریرہ کے شوہر ایک غلام تھے جن کا نام مغیث تھا۔ گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ مغیث اپنی بیوی کے پیچھے چل رہے ہیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عباس کیا تم کو اس پر تعجب نہیں کہ مغیث کو کتنی زیادہ محبت ہے بریرہ سے اور بریرہ کو کتنا زیادہ بغض ہے مغیث سے ۔ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ سے فرمایا کہ کیا اچھا ہو کہ تم مغیث کی طرف رجوع کر لو ۔ بریرہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول کیا آپ مجھے اس کا حکم دیتے ہیں آپ نے فرمایا کہ میں صرف سفارش کر رہا ہوں ۔ بریرہ نے جواب دیا : تو مجھے اس کی ضرورت نہیں (لا حاجۃ فيه) فتح الباری ۹ بریرہ نے اپنے شوہر مغیث سے تفریق کرا لی تھی ۔ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ کو مشورہ دیا کہ تم رجوع کر لو اور مغیث کے ساتھ زندگی گذارو مگر بریرہ نے آپ کے اس مشورہ کو قبول نہیں کیا۔ اور مغیث سے رجوع پر راضی نہیں ہوئیں ۔

اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں عورت کو کتنی زیادہ آزادی حاصل ہے ۔ اس کے مطابق، عورت نہ صرف مرد کے برابر ہے بلکہ اس کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ خود پیغمبر اگر وحی کی بنیاد پر کوئی مطالبہ کرے تو وہ اس کو ماننے پر مجبور ہے ۔ لیکن پیغمبر کے ذاتی مشورہ کو ماننا اس کے لئے ضروری نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues

Printed page