روزہ کیا ہے
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۷
کہ صبر کرنے والوں کو خدا کے یہاں بے حساب اجر دیا جائے گا (39.10)
بے حساب اجر کی یہی خوش خبری حدیث میں روزہ کے لیے بھی بتائی گئی ہے۔ ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کے نیک اعمال کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک دیا جاتا ہے۔ مگر روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا (بے حساب) بدلہ دوں گا (بخاری و مسلم) بے حساب بدلہ کا استحقاق اصلاً صبر کے لیے ہے۔ صبر اسلام میں سب سے بڑی نیکی اور سب سے زیادہ قابل قدر صفت ہے۔ روزہ آدمی کو اسی صابرانہ زندگی کے لیے تیار کرتا ہے، اسی لیے روزہ پر بھی بے حساب انعام رکھ دیا گیا۔
پیغمبر اسلامؐ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی شخص کے روزہ کا دن ہو تو وہ نہ کسی کو گالی دے اور نہ کسی سے جھگڑا کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ اس سے کہہ دے کہ " میں ایک روزہ دار آدمی ہوں "
یہی وہ چیز ہے جس کو صبر یا پابندی کہا گیا ہے۔ یعنی اشتعال کا موقع پیش آئے تو اس پر مشتعل نہ ہونا۔ دوسروں کے منفی رویہ کے باوجود اپنے آپ کو مثبت رویہ پر قائم رکھنا۔ کوئی شخص زیادتی کرے تب بھی یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو جوابی زیادتی سے بچانا۔
روزہ ایک سالانہ تربیتی کورس ہے جو آدمی کو اسی ضبطِ نفس کے قابل بناتا ہے۔ جس آدمی کے اندر ضبطِ نفس آجائے اس کے اندر وہ طاقت آگئی جس کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو تھامے، جس کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو شریعت کی مقرر کی ہوئی اخلاقی حد پر باقی رکھے، اور صحیح اور مطلوب زندگی گزارے۔
روزہ میں کھانا اور پانی چھوڑنا علامتی طور پر غیر مطلوب چیزوں کو چھوڑنے کا سبق ہے۔ اسی لیے پیغمبر اسلامؐ نے فرمایا کہ جو آدمی جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور اپنا پینا چھوڑ دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues