Al-Risala · December 1998 · page 11

حب عاجلہ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۱

حب عاجلہ

انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ فوری فائدہ (immediate gain) کی طرف دوڑتا ہے۔ اور دور کے فائدہ اور نقصان کو بھول جاتا ہے۔ اس بات کو قرآن (الدھر ۲۸) میں اس طرح بیان کیا گیا ہے ــــ یہ لوگ جلدی ملنے والی چیز کو چاہتے ہیں اور انھوں نے چھوڑ رکھا ہے اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو (ان هؤلاء يحبون العاجلة ويذرون وراءهم يوما ثقيلا)

موجودہ دنیا میں عمل کے دو میدان ہیں۔ ایک وہ میدان جس میں اپنا وقت اور مال اور قوت استعمال کی جائے تو فوراً اس کا فائدہ ملتا ہے۔ شہرت اور عزت حاصل ہوتی ہے۔ آدمی سماج کے اندر نیک نام بن جاتا ہے۔ ہر طرف اس کی تعریف ہونے لگتی ہے۔ دوسرا میدان وہ ہے جس میں بظاہر کوئی فوری فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔ حتی کہ یہ اندیشہ بھی ہوتا ہے کہ ساری کوشش کرنے کے باوجود آدمی کو کوئی ریٹرن نہ ملے بلکہ برعکس طور پر وہ لوگوں کے در میان غیر مقبول ہو کر رہ جائے۔ پہلے میدان کو دنیوی میدان اور دوسرے میدان کو اخروی میدان کہا جا سکتا ہے۔ جو آدمی اپنے وقت اور مال اور قوت کو دنیوی میدان میں خرچ کرے اس نے گویا اسی دنیا کی زندگی میں اپنے عمل کا بدلہ لے لیا، ایسے لوگوں کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (الاحقاف (۲۰) اس کے برعکس جو لوگ اخروی اہمیت والے مقاصد میں اپنے وقت اور اپنے اثاثہ کو استعمال کریں، وہی وہ لوگ ہیں جو موت کے بعد اپنے عمل کا ابدی انعام پائیں گے۔ عقل مند وہ ہے جو اپنے آپ کو وقتی کشش والی چیزوں سے اوپر اٹھائے اور آخرت کو اپنا مقصود بنا کر اس کے لئے عمل کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page