تقریر رمضان
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۹
تقریر رمضان
پچھلے کچھ سالوں سے ہمارے یہاں افطار پارٹی کا رواج بہت بڑھ گیا ہے۔ ہر سال رمضان میں سیکڑوں کی تعداد میں اس طرح کی پارٹیاں ہوتی ہیں۔ ان افطار پارٹیوں میں لوگ جمع ہو کر کھاتے پیتے ہیں تفریحی باتیں کرتے ہیں اور پھر اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کی افطار پارٹیوں پر فارسی شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے :
تن پر وریٔ خلق فزوں شدز ریاضت جز گرمیٔ افطار ندارد رمضان هیچ آج کے پروگرام کا یہ انداز نہایت صحت مند ہے کہ افطار پارٹی کے ساتھ یہاں اس اسلامی عبادت کے موضوع پر تقریروں کا پروگرام رکھا گیا۔ یہ ایک مفید طریقہ ہے۔ اس کے لیے میں پروگرام کے منتظمین کو مبارک باد دیتا ہوں۔ ضرورت ہے کہ اس طرح کے اجتماعات زیادہ سے زیادہ کیے جائیں اور مختلف مواقع کو اسلام کے مثبت تعارف کے لیے استعمال کیا جائے۔
اب مجھے روزے کے بارے میں کچھ باتیں کرنا ہے۔ روزہ ایک سالانہ عبادت ہے۔ جو رمضان کے مہینہ میں ادا کی جاتی ہے۔ اس کا آغاز رمضان کا نیا چاند دیکھ کر ہوتا ہے۔ جب شعبان کا مہینہ ختم ہوتا ہے اور رمضان کی پہلی شام آتی ہے تو تمام آنکھیں آسمان کی طرف اٹھ جاتی ہیں تاکہ وہ ہلال رمضان کو دیکھ سکیں۔ روزہ کی عبادت اگر شمسی مہینہ کی بنیاد پر قائم کی جاتی تو ایسا نہ ہوتا۔ کیوں کہ شمسی مہینہ کو علم الحساب کے ذریعہ مقرر کیا جاتا ہے نہ کہ آسمان میں نیا چاند دیکھ کر۔
یہ گویا رمضان کے مہینہ کا پہلا سبق ہے۔ اسی طرح رمضان یہ پیغام دیتا ہے کہ تم زمین سے اپنی نظریں اٹھاؤ اور آسمان کی طرف دیکھو۔ تم نیچے کی طرف دیکھنے والے نہ بنو بلکہ اوپر کی طرف دیکھنے والے بنو۔ تم مخلوقات کی سطح سے بلند ہو کر خدا کی سطح پر جینا سیکھو۔ یہ وہی چیز ہے جس کو فطرت کی زبان میں اس طرح کہا گیا ہے کہ۔ سادہ زندگی اور اونچی سوچ :
Simple living and high thinking
اب میں روزہ کی حقیقت کے بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں کچھ باتیں کروں گا۔ ا۔ قرآن میں جہاں روزے کا حکم دیا گیا ہے وہاں ارشاد ہوا ہے کہ یہ حکم تم کو اس لیے دیا جا رہا ہے کہ تا کہ تمہارے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues