جنتی انسان
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۴
جنتی انسان
جنت کا معاملہ کوئی گروہی معاملہ نہیں۔ یعنی ایسا نہیں کہ کوئی گروہ بحیثیت گروہ جنتی ہو اور جب وہ لوگ آخرت میں پہنچیں تو ایک طرف سے پورے گروہ کو جنت میں داخلہ مل جائے۔ اسی طرح جنت میں داخلہ کا معاملہ کوئی سفارشی معاملہ بھی نہیں۔ یعنی ایسا نہیں کہ کچھ لوگوں کو خدا کی طرف سے سفارش کے اختیارات دیئے گئے ہوں اور جس کے بارے میں وہ سفارش کریں ان کو جنت میں داخلہ دے دیا جائے۔ اسی طرح ایسا بھی نہیں کہ کچھ خارجی اعمال اپنے اندر پر اسرار فضیلت رکھتے ہوں اور جو آدمی اپنے اعضا و جوارح سے ان خارجی اعمال کو دہرادے وہ اپنے آپ جنت کا مستحق بن جائے۔
جنتی انسان کون ہے۔ اس کا جواب قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے : ذلک جزاء من تزکی (طٰہ: ۷۶) یعنی جنت کی قیمت تزکیہ ہے۔ جنت ان خوش نصیب افراد کو ملے گی جنھوں نے دنیا کی زندگی میں اپنا تزکیہ کیا ہو۔ جو ذہن مطہر اور قلب مصفیٰ لے کر آخرت میں پہنچیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں جنتی نفسیات کے ساتھ رہے۔ جن کی معرفت نے انھیں خدا میں جینے والا بنا دیا تھا۔ جن کو وہ گہر ایمان حاصل تھا جو قول و عمل کا نور بن کر انسان کی زندگی میں شامل ہو جاتا ہے۔ جو مثبت نفسیات میں نہائے ہوئے تھے اور منفی نفسیات سے یکسر پاک تھے۔ جنت خدا کے پڑوس میں بننے والی لطیف و نفیس کالونی ہے۔ اس میں وہی لوگ بسائے جائیں گے جو خدا کی پسند کو اپنی پسند بنا لیں۔ اور خدا کی نا پسند کو اپنی نا پسند ، جو مادیات سے اس حد تک اوپر اٹھ جائیں کہ دنیا ہی میں ان کو جنت کی خوشبو محسوس ہونے لگے۔ جن کے لئے جنت اسی آج کی دنیا میں ایک جانی پہچانی چیز بن جائے (يدخلهم الجنة عرفها لهم)
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues