مائنس کو پلس بنانا
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۶
مائنس کو پلس بنانا
جرمنی کے مشہور اسکالر الفریڈ ایڈلر (وفات ۱۹۳۷) کی ایک کتاب کا نام ہے: فرد کی نفسیات The Individual Psychology ایڈلر نفسیات کا عالم تھا اس نے اپنی اس کتاب میں لکھا ہے کہ میں نے اپنی ساری عمر انسان کا مطالعہ کیا۔ اپنے اس لمبے مطالعہ کے بعد میں نے پایا کہ انسانوں کے اندر ایک بڑی انوکھی صفت ہوتی ہے اور وہ ان کی یہ طاقت ہے کہ وہ اپنے مائنس کو پلس بنا سکیں۔ Their power to turn a minus into a plus یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان پیدائشی طور پر ایک ہیرو ہوتا ہے ۔ ہر انسان اپنے اندر یہ چھپی ہوئی صفت رکھتا ہے کہ وہ اپنے نہیں کو ہے میں تبدیل کر سکے ، وہ ایک بار ناکام ہونے کے بعد دوبارہ اپنے آپ کو کامیاب بنا لے۔
ایک بار میری ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی ۔ وہ میٹرک کے امتحان میں دو بار فیل ہو گیا تھا۔ اب وہ اپنی زندگی سے اتنا مایوس ہو چکا تھا کہ یہ سوچنے لگا تھا کہ مجھ کو خود کشی کر لینا چاہئے۔ میں نے اس کو الفریڈ ایڈلر کی یہ بات بتائی اور کہا کہ ابھی آپ نے اپنے کو کم استعمال کیا تھا اس لئے آپ فیل ہو گئے۔ اب آپ اپنے کو پہلے سے زیادہ استعمال کیجئے، اس کے بعد آپ کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ اب اس کے اندر ایک نیا حوصلہ جاگا۔ اس نے پہلے سے زیادہ محنت کرنا شروع کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے جب تیسری بار میٹرک کا امتحان دیا تو وہ نہ صرف پاس ہوا بلکہ فرسٹ آیا۔ انسان اپنا تمام کام دماغ کی مدد سے کرتا ہے اور دماغ کے بارے میں تحقیقات نے معلوم ہوا ہے کہ اس کے امکانات بے پناہ ہیں۔ انسانی دماغ کی جو غیر معمولی صلاحیت ہے عام انسان اس کا پانچ فیصد حصہ بھی استعمال نہیں کر پاتے اور مر جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے دماغ کے خزانہ کا عام طور پر جتنا حصہ استعمال کرتا ہے اس کے بعد بھی اس خزانہ کا تقریباً ۹۵ فیصد حصہ استعمال کئے بغیر پڑار ہتا ہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کے لئے مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔ گویا کہ ہر انسان کے فطری بینک میں اتنا زیادہ رقم جمع ہے کہ مصرفانہ حد تک خرچ کرنے کے باوجود اس کا بینک کبھی خالی نہ ہو، وہ ہر حال میں سونے اور چاندی سے بھرارہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues