ریا، اخلاص
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۹
ریا، اخلاص
قرآن وحدیث میں بتایا گیا ہے کہ خدا ریا والے عمل کو کبھی قبول نہیں کرتا۔ وہ صرف اس مخلصانہ عمل کو قبول کرتا ہے جو صرف خدا کی رضا کے لئے کیا گیا ہو۔
سماجی زندگی میں جو اعمال کئے جاتے ہیں ان میں اکثر ریا والا عمل اور اخلاص والا عمل دونوں ظاہری صورت کے اعتبار سے یکساں ہوتا ہے۔ مثلاً علم دین کی اشاعت، مال خرچ کرنا، اخلاقی سلوک، دوسروں کی اعانت وغیرہ۔ یہ سارے اعمال ریا کے جذبہ کے تحت بھی ہو سکتے ہیں اور خالص خدائی رضا کے تحت بھی۔
مگر ظاہری مشابہت کے باوجود دونوں میں اتنا بڑا فرق ہے کہ ریا والے عمل پر سزا ہے اور اخلاص والے عمل پر انعام۔ ایک قسم کا عمل آدمی کو جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور دوسری قسم کا عمل جنت کی طرف۔
ایک پروفیشنل آدمی بھی لوگوں سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا ہے۔ وہ اپنے اصحاب معاملہ سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آتا ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے جو اللہ کے دین کی خاطر نرم کلامی اختیار کرتا ہے ۔ وہ اللہ کے خوف سے لوگوں کے ساتھ اخلاق اور دیانت کا معاملہ کرتا ہے بظاہر دونوں قسم کے آدمیوں کا عمل بالکل یکساں ہے مگر ایک کے لئے آخرت میں کچھ نہیں، اور دوسرے کے لئے آخرت میں وہ سب کچھ ہے جس کو وہ چاہے۔
اسی طرح ایک تاجر ہے جو سماجی اداروں کو مال دیتا ہے مگر اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیوی نیک نامی حاصل کرے ۔ وہ سیاسی لیڈروں کو چندہ دیتا ہے تاکہ وہ وقت پر اس کے کام آئیں۔ دوسری طرف وہ خدا ترس تاجر ہے جو خالص آخرت کے جذبہ کے تحت اپنا مال خرچ کرتا ہے جو دین کی راہ میں کوشش کرنے والوں کی مخلصانہ مدد کرتا ہے، صرف اس لئے کہ خدا اس سے راضی ہو۔ ان دونوں قسم کے لوگوں کے عمل کا انجام بھی ظاہری مشابہت کے باوجود یکساں نہیں۔ ان میں سے ایک خدا کے یہاں نا قابل قبول ہے اور دوسرا خدا کے یہاں پوری طرح قابل قبول۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues