منافق کی پہچان
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۱۱
منافق کی پہچان
منافق کون ہے۔ قرآن (آل عمران ۱۶۷) میں منافق کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ بناوٹی باتیں کرتا ہے۔ اس کے دل میں کچھ ہوتا ہے اور زبان پر کچھ۔ قرآن کے الفاظ میں، ایسے لوگ اپنے منہ سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے (يقولون بافواههم ماليس في قلوبهم)
انسانوں کی دو قسمیں ہیں۔ مخلص اور منافق۔ مخلص انسان جب بولتا ہے تو اس کو یقین ہوتا ہے کہ خدا اس کے ہر لفظ کو سن رہا ہے۔ اس لئے وہ وہی بات کہتا ہے جو از روئے حق اسے کہنا چاہئے ۔ اس بنا پر اس کے دل اور اس کی زبان میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ ایسا انسان دہر الکلام (double talk) سے مکمل طور پر پاک ہوتا ہے مخلص انسان کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ اس کی کوئی بات خدا سے چھپی ہوئی نہیں۔ اس بنا پر اس کے لئے نا ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ کوئی ایسی بات کہے جو اس کے دل میں نہیں ہے۔
اس کے برعکس منافق انسان کا دل خدا کے خوف سے خالی ہوتا ہے۔ اس لئے اس کی نظر خدا پر نہیں ہوتی بلکہ انسان پر ہوتی ہے۔ انسان چونکہ اس کے دل کا حال نہیں جان سکتا اس لئے وہ انسان کو دھوکے میں رکھنے کے لئے اس سے بناوٹی بات بولتا ہے جو لوگوں کو خوش کرنے والی ہو۔ منافق انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کے دل میں خود غرضی ہوتی ہے مگر وہ اپنی زبان سے غرض کی بات کرتا ہے۔ اس کے دل میں نفرت ہوتی ہے مگر اپنے منہ سے وہ محبت کے الفاظ بولتا ہے۔ اس کے دل میں ذاتی انٹرسٹ ہوتا ہے مگر اپنی زبان سے وہ اصول پسندی کی بات کرتا ہے۔ اس کا اصل مقصد اپنی خواہش کو پورا کرنا ہوتا ہے مگر زبان سے وہ دوسروں کی خیر خواہی کے الفاظ بولتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues