Al-Risala · March 1999 · page 46

شیطانی وسوسہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۴۶

اسی طرح شیطانی وسوسہ کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ کسی مسئلہ کو دو قا ر کا مسئلہ بنا دے۔ دو آدمیوں کے درمیان کسی معاملہ میں نزاع پیدا ہو تو ابتدائی طور پر وہ ایک سادہ نزاع ہوتی ہے باہمی گفت و شنید کے ذریعہ اس کو حل کیا جا سکتا ہے۔ مگر جب وہ بڑھ کر سا کھ اور وقار کا مسئلہ بن جائے تو اس کے ساتھ ایک نا قابلِ حل پیچیدگی کا اضافہ ہو جاتا ہے۔

نزاع پیدا ہونے کی صورت میں ابتدائی طور پر آدمی صرف نفع اور نقصان کو دیکھتا ہے۔ ایسی حالت میں نزاع کو ختم کرنا مشکل نہیں ہو تا مگر نزاع کا معاملہ جب بڑھ کر دو وقار کا معاملہ بن جائے تو آدمی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اگر میں نے فریق ثانی کی بات مان لی تو میری بے عزتی ہو جائے گی۔ اسی کا نام شیطانی وسوسہ ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ کوئی معاملہ جب اپنی سادہ حالت سے آگے بڑھ کر عزت دو قا ر کا معاملہ بننے لگے تو وہ چو کنا ہو جائے۔ وہ جان لے کہ اب اس معاملہ میں شیطان وسوسہ اندازی کر رہا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہئے کہ وہ شیطان کے مقابلہ میں خدا کی پناہ مانگے اور لڑ کر ایسے خیال کو اپنے دماغ سے نکال دے۔

ہر آدمی اس شیطانی وسوسہ کی زد میں ہے۔ نجات یافتہ وہ ہے جو فطرت کی آواز پر چلے اور شیطانی وسوسہ کو ماننے سے انکار کر دے۔

نئی کتابیں ہند و پاک ڈائیر ی مطالعہ سیرت اسباق تاریخ اسلام: ایک تعارف منزل کی طرف

‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues

Printed page