اختیارانۂ عبادت
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۸
اختیارانۂ عبادت
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ انسان کی صورت میں ایک با اختیار مخلوق پیدا کرے اور اس کو زمین پر بسائے۔ اس نے اپنے اس ارادہ کو فرشتوں کے سامنے ظاہر فرمایا۔ فرشتوں نے یہ سن کر کہا کہ۔ ۔۔ کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔ حالانکہ ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری تقدیس بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے (البقرہ ۳۰)
خدا کو اپنی مخلوقات سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہی حمد و تقدیس ہے۔ یعنی خدا کی خدائی کا کامل اعتراف اور اس کی صفات کمال کا اعلیٰ اظہار۔ فرشتوں کو یہ اشکال ہوا کہ یہ مطلوب حمد و تقدیس تو ہم ہر لمحہ بیان کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں کسی اور مخلوق کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت۔ مزید یہ کہ یہ نئی مخلوق کامل اختیار کی مالک ہوگی، ایسی حالت میں تقریباً یقینی ہے کہ وہ اپنے اختیار کا غلط استعمال کرے اور زمین کو خون اور فساد سے بھر دے۔
اللہ تعالیٰ نے اس اشکال کی کھلی تردید نہیں کی۔ البتہ ذریت آدم کا از اول تا آخر تعارف کرکے بتایا کہ اس میں اگر فساد کرنے والے اور خون بہانے والے لوگ ہوں گے تو اس میں ابو بکر و عمر جیسے صالحین بھی ہوں گے۔ ایسے افراد اگر تھوڑے بھی نکلیں تب بھی وہ اس تخلیقی منصوبہ کی کامیابی کے لیے کافی ہیں۔ حمد و تقدیس فرشتوں سے بھی مطلوب ہے اور انسانوں سے بھی۔ مگر دونوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ فرشتوں کی حمد و تقدیس اگر مجبورانہ ہے تو انسان کی حمد و تقدیس اختیارانۂ۔ اور دونوں میں ویسا ہی فرق ہے جیسا ریکارڈ کی ہوئی تقریر کو ٹیپ ریکارڈر پر بجانا اور ایک زندہ اور با شعور انسان کا اسٹیج پر بولنا۔
حمد و تقدیس کے جذبات سے سرشار ہونا، یہی اصل مطلوب ہے، فرشتوں نے مجبورانہ طور پر اور انسان سے اختیارانۂ طور پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues