جنتی کون
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۴
جنتی کون
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ اپنے سچے بندوں کو اس جنت میں داخل کرے گا جس کی پہچان اس نے انھیں کرا دی ہے (یدخلهم الجنة عرفها لهم) دوسری آیت میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت کو جب جنت کے پھل دئے جائیں گے تو وہ کاسیں گے۔ یہ تو وہی پھل ہے جو ہمیں دنیا میں دئے گئے تھے۔ (هذا الذي رزقنا من قبل) (التوبہ ۲۵)
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنتی کون ہے۔ جنتی انسان وہ ہے جس نے دنیا ہی میں آخرت کا تجربہ کیا۔ جس نے آخرت میں خدا کو براہ راست دیکھنے سے پہلے ہی دنیا میں اس کو بالواسطہ طور پر دیکھا۔ جس نے اس بے پناہ شکر خداوندی کا دنیا ہی میں تجربہ کیا جو کسی آدمی کو اس وقت حاصل ہوگا جب کہ وہ اپنے آپ کو جنت کے لطیف و نفیس دنیا کے اندر پائے گا۔ جس کے لئے خدا کی دنیا میں عاید کی جانے والی خدائی ذمہ داریاں اس طرح پر لذت بن گئیں جس طرح کسی کو آخرت میں ملنے والا انعام پر لذت معلوم ہوگا۔ جس نے دنیا ہی میں ان حقیقتوں کو معرفت کے درجہ میں پالیا جن کو پانے والے آخرت میں واقعہ کے درجہ میں پائیں گے۔
جنتی انسان وہ ہے جس نے کائنات کی وسعتوں میں جنت کی وسعتوں کو دیکھا۔ جس نے چڑیوں کے چہچہے میں جنت کے نغموں کو سنا۔ پانی کی ٹھنڈک جس کے لئے خدا کی رحمت بن کر اس کی رگوں میں اتر گئی۔ جس کا سینہ ان کیفیاتِ رحمت سے معمور ہو گیا جو جنت کے باشندوں کا خاصہ ہوگا۔ جنتی انسان وہ ہے جو دنیا میں اس مچھلی کی طرح رہا جس کو پانی سے نکال کر باہر ڈال دیا گیا ہو۔ جنتی انسان وہ ہے جو آخرت کی یاد میں اتنا زیادہ محو ہوا کہ دنیا کی لذتیں اس کے لئے بے معنی ہو کر رہ گئیں۔ جنتی انسان وہ ہے جو اس وقت بھی جنت میں تھا جب کہ ابھی وہ جنت سے باہر تھا، اس فرق کے ساتھ کہ پہلے اس نے اپنے تصورات میں جنت کو پایا تھا اور بعد کو وہ اپنے حقیقی تجربہ میں جنت کا ایک خوش نصیب باشندہ ہوگا۔