Al-Risala · June 1999 · page 11

فراست مومن

الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۱۱

فراست مومن

قرآن میں تاریخ کے بعض واقعات کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے: انّ فی ذلک لآيات للمتوسمین (الحجر ۷۵) اس آیت میں متوسم کی تشریح مقترس سے کی گئی ہے۔ یعنی ان تاریخی واقعات میں نشانی ہے اہلِ فراست کے لئے (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ۴۲/۱۰)

اس سلسلہ میں ایک حدیث بھی آئی ہے جو اس کی مزید وضاحت کرتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، اس حدیث رسول کے الفاظ یہ ہیں:

احذروا فراسة المؤمن فانه ينظر مؤمن کی فراست سے بچو کیوں کہ وہ اللہ کے بنور الله وينطق بتوفيق الله (جامع نور سے دیکھتا ہے اور وہ اللہ کی توفیق سے کلام البيان عن تاویل آی القرآن للطبری کرتا ہے۔

(۱۴ / ۴۷

اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ چیزوں کو ربانی نظر سے دیکھے اور معاملات کے اوپر اس اعلیٰ اسلوب میں کلام کرنے لگے جو خدا کی خصوصی توفیق سے کسی کو حاصل ہوتا ہے۔

مومن اور غیر مومن کا فرق یہ ہے کہ غیر مومن چیزوں کے ظاہر کو دیکھ کر اپنی رائے قائم کرتا ہے۔ جب کہ مومن چیزوں کے ظاہر سے گزر کر اس کے باطن تک پہنچ جاتا ہے۔ وہ اندرونی حقائق کے اعتبار سے اپنی رائے قائم کرتا ہے۔ یہی وہ خاص صفت ہے جس کی وجہ سے دونوں کی رایوں میں یہ فرق پیدا ہو جاتا ہے کہ ایک کی رائے بے پناہ حد تک طاقتور ہوتی ہے، اور دوسرے کی رائے بے وزن اور بے اثر ہو کر رہ جاتی ہے۔

مثلاً ایک شخص ہے جس کو اللہ سے تعلق نہیں۔ وہ بس اپنی ذات میں جیتا ہے اور اپنی عقل

‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues

Printed page