Al-Risala · January 1999 · page 4

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۴

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۴

روزہ کا مقصد آدمی کی روحانیت کو جگانا اور اس کو ربانی انسان بنانا ہے۔

قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ۔ ۔۔ تم لوگ ربانی بنو (آل عمران ۷۹) اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رب والے یا اللہ والے بن کر زندگی گزارو۔ خود پرستی کی زندگی کو چھوڑ کر خدا پرستی کی زندگی اختیار کرو۔

دنیا میں زندگی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے اپنی خواہشوں کے زیر اثر زندگی گزارنا۔ اور دوسرا ہے خدا کی مرضی کے زیر اثر زندگی گزارنا۔ ربانی انسان وہ ہے جو خدا کو اپنا سب بنالے۔ وہ اسی کی یاد میں جیئے۔ وہ ہر معاملہ میں خدا کی مرضی کو جاننے کی کوشش کرے اور جو خدا کی مرضی ہو اس پر اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ اس کے برعکس غیر ربانی انسان وہ ہے جو اپنے آپ میں جیتا ہو۔ جس کے لئے اس کی خواہشیں ہی سب کچھ ہوں۔ جو اپنی خواہشوں کی تکمیل کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے ہوئے ہو۔

رمضان کے مہینے کا روزہ کسی آدمی کو ربانی انسان بنانے کی تربیت ہے۔ روزہ آدمی کی ذاتی خواہشوں پر پابندی لگاتا ہے ۔ روزہ یہ سبق دیتا ہے کہ اپنی ذات کے لئے جینے کے بجائے خدا کے لئے جیو۔ اپنی خواہشوں کو سب کچھ سمجھنے کے بجائے صرف خدا کو اپنا سب کچھ بنالو۔

روزہ آدمی کو ربانی انسان بنانے کی ایک سالانہ تربیت ہے۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے دنیا اور آخرت کی کامیابیاں مقدر کی گئی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues

Printed page