عملی حالات کی رعایت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۳۱
پیچھے ایک عظیم حکمت تھی۔ وہ یہ کہ خلیفہ یا حکمران کو ایک وسیع انسانی سماج پر احکام کا نافذ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ لوگ خلیفہ کی اطاعت پر راضی ہو جائیں۔ یہ اطاعت رضا کارانہ ہونا چاہئے۔ جبری اطاعت کے ذریعہ وہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا جو اسلامی خلافت کا مقصود ہے۔
قدیم عرب میں سیکڑوں سال کی تاریخ کے نتیجہ میں قریش کے لوگوں کو سرداری کا درجہ حاصل ہو گیا تھا۔ عوامی نفسیات کسی ایسے شخص کی سیادت کو آسانی کے ساتھ قبول کر لیتی تھی جس کا تعلق قریش کے قبیلہ سے ہو۔ اسی سماجی صورت حال کی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا کہ الائمہ من قریش۔ یہ کوئی ابدی حکم نہیں تھا۔ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ کسی قوم میں جس گروہ کو قریش جیسی سیاسی حیثیت حاصل ہو جائے، وہاں اسی گروہ کے کسی فرد کو قوم کے اوپر حاکم بنایا جائے۔
اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عملیت(Pragmatism) بھی رسول اللہ ﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ انفرادی معاملہ میں ایک شخص کو ہمیشہ نظری معیار سامنے رکھنا چاہئے۔ مگر اجتماعی معاملات میں بعض اوقات نظری معیار قابل عمل نہیں ہوتا، اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ ایسے معاملہ میں نظری معیار کو چھوڑ کر عملی تقاضے کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو زندگی کا نظام ہموار طور پر نہیں چل سکتا۔ مستقبل بینی فتح مکہ کے بعد عرب میں وہ دور آیا جس کو تاریخ میں عام الوفود کہا جاتا ہے۔ عرب کے قبائل مدینہ آکر اسلام قبول کرنے لگے۔ ان میں سے ایک قبیلہ ثقیف بھی تھا جو طائف سے آیا تھا۔ یہ لوگ مدینہ آئے تو انھوں نے ایک انوکھی شرط پیش کر دی۔ انھوں نے کہا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues