Al-Risala · October 1999 · page 22

زندگی ایک قیمتی موقع

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۲

ہر آدمی ایک ایسے نشانہ کو جان لیتا ہے، جس کو وہ اپنی تمام سرگرمیوں کا مرکز توجّہ بنالے۔ دونوں حالتوں میں صبر حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عجبت من قضاء الله عزوجل للمؤمن ان اصابه خير حمد و شكر وان اصابته مصيبة حمد ربه وصبر المؤمن يوجر فى كل شئى (مسند الامام احمد بن حنبل ار ۱۷۳) یعنی مومن کے معاملے میں اللہ کا فیصلہ کیسا عجیب ہے۔ اگر اس کو بھلائی پہونچتی ہے تو وہ حمد کرتا ہے اور شکر کرتا ہے اور اگر اس کو کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ حمد کرتا ہے اور صبر کرتا ہے۔ اس طرح مومن کو ہر چیز میں اجر ملتا رہتا ہے۔

مومن سے مراد وہ انسان ہے جس کا شعور پوری طرح بیدار ہو چکا ہو، جس کی سوچ اس حد تک ترقی کر چکی ہو کہ وہ ہر پیش آنے والی صورت حال پر مثبت جواب (positive response) دے سکے۔ وہ قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر حقائق کو دیکھنے والا بن چکا ہو۔ یہی وہ انسان ہے جس کا ذکر اوپر کی حدیث میں کیا گیا ہے۔

ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کو کوئی پسندیدہ چیز حاصل ہوتی ہے تو وہ اس غلط فہمی میں نہیں پڑتا کہ یہ اس کی اپنی کوشش کا نتیجہ ہے بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ خدا کے قائم کردہ نظام کی بنا پر ممکن ہوا ہے۔ یہ چیز اس کو حقیقت پسند بناتی ہے اور اس کو نظام خداوندی کا اعتراف کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اسی طرح اگر اس کو کوئی ناخوشگوار تجربہ پیش آئے تب بھی اس کا ترقی یافتہ شعور اس بات کی ضمانت بن جاتا ہے کہ اس کا ذہنی سکون نہ ٹوٹے۔ وہ فریاد یا شکایات کے بجائے صبر و تحمّل کے ساتھ اس کا سامنا کرے۔

موجودہ دنیا میں یہ مزاج آدمی کے لئے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ اس کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ حالات کے اتار چڑھاؤ کے باوجود ہمیشہ اعتدال پر قائم رہے۔ وہ ہر نہیں میں اپنے لئے ایک ہے کاراز دریافت کرلے۔ اس کی زندگی کبھی تعطّل سے دوچار نہ ہو۔ اس کی امیدوں کا چراغ کبھی

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page