عقیدہ کی طاقت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۵
عقیدہ کی طاقت
مسٹر یوسف خان (نئی دہلی) اگست ۱۹۹۰ میں امریکہ (نیو جرسی) میں تھے۔ وہاں کی ٹی وی کمپنی سی این این (C.N.N) پر ۲۴ گھنٹہ دنیا بھر کی خبریں نشر ہوتی رہتی ہیں۔ مسٹر یوسف خان نے اکتوبر ۱۹۹۰ کی ملاقات میں بتایا کہ ایک روز وہاں ٹی وی پر فوجی پروگرام تھا۔ خلیج میں جانے والے امریکی فوجیوں کا انٹرویو دکھایا جا رہا تھا۔
ٹی وی کا عملہ اپنے پورے سامان کے ساتھ بندرگاہ پر اور ایرپورٹ پر پہنچا اور سمندری جہاز یا ہوائی جہاز سے خلیج کے لئے روانہ ہونے والے امریکی فوجیوں کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو آوازوں اور تصویروں کے ساتھ ٹی وی پر دکھایا گیا۔ ٹی وی کے عملہ اور فوجیوں کے درمیان جو باتیں ہوئیں ان میں سے ایک سوال و جواب یہ تھا:
Q. How do you feel going to Middle East?
A. When Muslims fight and die, they believe they go to heaven, but we don't have any such belief. I am scared. سوال: مشرق وسطی میں جاتے ہوئے آپ کیسا محسوس کرتے ہیں۔
جواب: مسلمان جب لڑتے ہیں اور میدان جنگ میں مرتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جنت میں جائیں گے۔ مگر ہمارے پاس اس قسم کا کوئی عقیدہ نہیں۔ میں خوف زدہ ہوں۔ یہی بات قرآن (النساء (۱۰۴) میں کہی گئی ہے۔ تاہم اس کا تعلق صرف جنگ سے نہیں بلکہ ہر قسم کی جدوجہد سے ہے۔ غیر جنگی مقاصد میں بھی اس کی سخت ضرورت ہوتی ہے کہ لوگوں میں بلند ہمتی ہو۔ وہ خطرہ مول لے کر آگے بڑھ سکیں۔ نتیجہ کے غیر یقینی ہونے کے باوجود وہ آگے بڑھنے کا ثبوت دے سکیں۔ ایسے پر امن موقع پر بھی اسلام کا عقیدہ انتہائی مددگار ہے۔ وہ آدمی کے اندر اولوالعزمی کی صفت پیدا کرتا ہے، اور جن لوگوں کے اندر اولوالعزمی ہو ان کے راستے میں نہ کوئی سمندر حائل ہوتا ہے اور نہ کوئی پہاڑ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues