Al-Risala · December 1999 · page 7

فقہ فی الدین

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۷

حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: خصلتان لا تجتمعان في منافق حسن سمت ولا فقہ في الدین (الترمذی بحوالہ مشکاۃ المصابیح ا/ ۷۲) دو صفتیں ایسی ہیں جو کسی منافق میں جمع نہیں ہوتیں خوش خلقی اور تفقه فی الدین۔

منافقت کے ساتھ تفقه فی الدین کیوں جمع نہیں ہوتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ منافق ایک غیر سنجیدہ انسان ہوتا ہے، اور غیر سنجیدہ ذہن اس قابل ہی نہیں ہو تا کہ وہ گہری حقیقتوں کو سمجھے یا ان کا ادراک کر سکے۔ گہری بصیرت کے لئے سنجیدگی (sincerity) ایک لازمی شرط ہے۔ منافقت کے ساتھ سنجیدگی کبھی جمع نہیں ہوتی۔ اس لئے منافق انسان کبھی تفقه فی الدین کی لذت سے آشنا بھی نہیں ہوتا۔

تفقه فی الدین کا درجہ اس کے حصہ میں آتا ہے جو اپنے ذہن کو دوسری غیر متعلق چیزوں سے ہٹا کر صرف دین کو اپنے غور و فکر کا موضوع بنائے۔ یہ ذہنی یکسوئی (concentration) ہی تفقه فی الدین کا دروازہ ہے۔ جو لوگ ذہنی یکسوئی کی یہ قیمت ادا نہ کریں وہ کبھی اس خیر کو نہیں پا سکتے جس کو قرآن و حدیث میں تفقه فی الدین کہا گیا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: فقیه واحد اشد علی شیطان من الف عابد (الترمذی، ابن ماجہ، بحوالہ مشکاۃ المصابیح ا/ ۷۳) یعنی ایک فقیہ شیطان کے اوپر ہزار عابد سے زیادہ سخت ہے۔

غیر فقیہ صرف چیزوں کے ظاہر کو دیکھتا ہے۔ اس کے بر عکس فقیہ کی نظر چیزوں کی اصل حقیقت تک پہنچ جاتی ہے۔ غیر فقیہ چیزوں کے فرق کو نہیں سمجھتا جب کہ فقیہ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جان لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر فقیہ نہایت آسانی سے شیطان کی تزئین کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب کہ فقیہ اس قابل ہو تا ہے کہ وہ شیطانی تزئین کا پردہ پھاڑ کر حقیقت کو اس کے برہنہ روپ میں دیکھ سکے۔ اور اس طرح اس کی گمراہی سے بچ جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues

Printed page