When pen is lost everything is lost
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۱
سوال
ستمبر ١٩٩٩ کے اردو الرسالہ کے صفحہ ۴۶ میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ”١٩٩٢ میں بابری مسجد کے ڈھائے جانے سے پہلے اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے مجھے بابری مسجد کے بارے میں بات چیت کے لئے بلایا تھا۔ پرائم منسٹر ہاؤس، نئی دہلی میں جب ان سے میری ملاقات ہوئی تو میں بے اختیار رو پڑا۔ میں نے کہا کہ بابری مسجد کو بچانے سے بھی بڑا مسئلہ ملک کو بچانا ہے۔ “ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ آپ حضرت ملک کے وزیر اعظم کے سامنے مسجد کو بچانے کے لئے نہیں مسلمانوں کو بچانے کے لئے نہیں بلکہ ملک کو بچانے کے لئے روپڑے۔ ایک داعی کے لئے جس پر دنیا بھر کے لوگوں کی نظر لگی ہوئی ہو یہ بات کہنہاد دعوت کے لئے بہت مضر ہے۔ لوگ اس کو لے کرچہ مگوئیاں کر رہے ہیں۔ احب البلاد الى الله مساجدها حدیث میں آیا ہے۔ آپ حضرت ملک کے لئے روتے ہیں لیکن مسجد کے لئے یا مسلمانوں کے لئے یہ رونا نہیں۔ کسی بھی پیغمبر سے اس طرح کا رونا ملک کے لئے ثابت نہیں۔ (محمد اکرم المزھری، سلالہ، سلطنت عمان) جواب مذکورہ حدیث کا حوالہ یہاں غیر متعلق ہے۔ یہ حدیث تفصیل کے ساتھ صحیح ابن حبان (جلد اول) میں آئی ہے۔ صحیح مسلم (کتاب المساجد) میں اس کے پورے الفاظ یہ ہیں : احب البلاد الى الله مساجدها وابغض البلاد الى الله اسواقها (اللہ کے نزدیک شہروں میں سب سے محبوب جگہ اس کی مسجدیں ہیں اور اللہ کے نزدیک شہروں میں سب سے مبغوض جگہ اس کے بازار ہیں)۔ اس حدیث میں جو تقابل ہے وہ مساجد اور بلاد کے درمیان نہیں ہے بلکہ وہ مساجد اور اسواق کے درمیان ہے۔ امام نووی نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : المساجد محل نزول الرحمة والاسواق ضدها (صحيح مسلم بشرح النووى ۱۷۱/۵) یعنی مسجدیں اللہ کی رحمت کے نزول کا مقام ہیں اور بازار اس کا ضد ہیں۔ عجیب بات ہے کہ لوگوں نے اس حدیث سے بلاد کے مبغوض ہونے کا مسئلہ نکال لیا۔ حالانکہ اس حدیث میں جس چیز کے مبغوض ہونے کا
‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues