اسلامی جہاد
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۳۱
مصطفی اور اسلامی جہاد کے نام پر ایسے افعال کئے جارہے ہیں جو سراسر اسلام کے خلاف ہیں۔ جو لوگوں کو خدا کے دین سے قریب کرنے کے بجائے انھیں اس سے دور کر رہے ہیں۔ اسی اندوہناک صورت حال کو دیکھ کر ایک شاعر نے بجاطور پر کہا ہے :
کسے خبر تھی کہ لے کر چراغ مصطفوی جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہی اسلامی نظام موجودہ زمانہ میں اس قسم کی متشددانہ تحریکیں نظام اسلام یا نظام مصطفیٰ کے نام پر چلائی جارہی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تحریکیں اسلام کے نام پر سیاسی لیڈرئی کرنے کے ہم معنی ہیں۔ سیاسی اقتدار کے حصول کے لئے تحریکیں چلانا اسلام میں جائز ہی نہیں۔ اسلامی تحریک کا نشانہ فرد کو اسلامائز کرنا ہے نہ کہ حکومت یا اسٹیٹ کو اسلامائز کرنا۔ صوفیاء کرام نے سیکڑوں سال تک جو کام کیا وہ فرد کو اسلامائز کرنے کا کام تھا۔ یہ کام پر امن طور پر مسلسل جاری رہا، وہ کبھی نفرت اور تشدد پھیلانے کا ذریعہ نہ بن سکا۔ صوفیاء کے ذریعہ ہمیشہ امن اور انسانیت کو فروغ حاصل ہوا جب کہ موجودہ نام نہاد انقلابی تحریکیں برعکس نتیجہ ظاہر کر رہی ہیں۔
اسلام کے ساتھ نفرت اور تشدد کا وابستہ ہونا صرف موجودہ زمانہ کے نام نہاد مسلم لیڈروں کا پیدا کردہ ہے. جنھوں نے خود ساختہ طور پر حکومت واقتدار کو نشانہ بنا کر اپنی تحریکیں چلائیں۔ ان لوگوں نے اپنے عمل سے اسلام کو نفرت اور تشدد کا دین بنا دیا ہے حالانکہ خدا کا بھیجا ہوا اسلام امن اور خیر خواہی کا مذہب ہے۔ مسلمان خیر خواہ انسانیت ہوتا ہے نہ کہ فوجدار انسانیت۔
اسلامی جہاد
اگر ایک شخص میدان میں کھڑا ہو کر اپنے ہاتھ پاؤں ہلائے یا اٹھ بیٹھ کرے اور کہے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں تو اس کے کہنے سے اس کا یہ فعل نماز نہیں بن جائے گا۔ نماز کی کچھ متعین شرطیں ہیں۔ ان شرطوں کے ساتھ جو عمل کیا جائے وہ نماز ہے، ورنہ وہ نماز نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues