Al-Risala · January 2000 · page 24

غلط سوچ کا مسئلہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۲۴

مستقبل کی قیادت ایک تاریخی قانون مشہور انگریز مورخ آرنلڈ ٹوائن بی ۱۸۸۹ء میں لندن میں پیدا ہوا اور ۱۹۷۵ء میں یارک شائر میں اس کی وفات ہوئی۔ ۳۵ سال کے لمبے مطالعہ کے بعد اس نے اپنی کتاب مطالعہ تاریخ (A Study of History) لکھی۔ یہ کتاب بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کی آخری جلد ۱۹۶۱ میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں پوری انسانی تاریخ کی ۲۶ معلوم تہذیبوں کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ اور قوموں کے عروج و زوال کا ایک مربوط فلسفہ بیان کیا گیا ہے۔

آرنلڈ ٹوائن بی اپنے تاریخی مطالعہ کے ذریعہ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ جب بھی دنیا میں کوئی نئی تہذیب ظہور میں آتی ہے تو اس کے پیچھے کسی اقلیتی گروہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ دراصل اقلیت ہی ہے جو ان فطری اور تاریخی صلاحیتوں کی حامل ہوتی ہے جو کسی نئے تہذیبی انقلاب کو ظہور میں لانے کے لئے ضروری ہے۔ اس قسم کا تخلیقی انقلاب کبھی کسی اکثریتی گروہ کے ذریعہ وجود میں نہیں آیا۔ آرنلڈ ٹوائن بی کے اس تاریخی فلسفہ کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی تہذیب کا ابتدائی مرحلہ ماحول کے چیلنج سے ظہور میں آتا ہے۔ یہ ماحول نہ تو اتنا سخت ہو جو ترقیاتی عمل کو ابھرنے نہ دے اور نہ اتنا موافق ہو کہ وہ تخلیقی روح کو معطل کردے۔ تخلیقی اقلیت اس چیلنج کا جواب دے کر غیر فعال اکثریت کو قیادت فراہم کرتی ہے۔ چیلنج کا جواب دینے کے اس عمل کو مزید تقویت اقلیت کے پیش کردہ حل کی عمومی قبولیت سے ملتی ہے (جو اس کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے) :

The initial stage of a civilization is its growth, brought about by an environmental challenge, neither too severe to stifle progress nor too favourable to inhibit creativity. Which finds a response among a creative minority that provides leadership to the passive majority. The mechanism of challenge-response is complemented by the general acceptance of and loyalty to the minority's solutions. اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ملک میں جو گروہ اقلیت میں ہو اس کو عین قانون فطرت کے تحت

‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues

Printed page