رب بنانا
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۴
رب بنانا
دورِ زوال کے یہودیوں اور عیسائیوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہواہے :انھوں نے اللہ کے سوا اپنے علماء اور مشائخ کو رب بنا لیا اور مسیح بن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو صرف یہ حکم تھا کہ وہ صرف ایک معبود کی عبادت کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ پاک ہے اس سے جو وہ شریک کرتے ہیں۔ (التوبہ ۳۱)
احمد اور ترمذی نے یہ روایت کیا ہے کہ عدی بن حاتم الطائی جو جاہلیت کے زمانہ میں نصرانی ہو گئے تھے، وہ مدینہ آئے اور اسلام قبول کر لیا۔ پھر انھوں نے مذکورہ آیت کی نسبت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاکہ انھوں نے اپنے علماء اور مشائخ کی عبادت تو نہیں کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ ان کے علماء نے حلال کو حرام کیا اور حرام کو حلال کیا تو انھوں نے اس کی پیروی کی۔ یہی ان کی اپنے علماء و مشائخ کی عبادت ہے۔ تفسیر ابن کثیر الجزء الثانی صفحہ ۳۴۸۔ ان آیات میں اتخاذ رب کا مطلب اکابر پرستی ہے۔ اس کا اس سیاسی نظریہ سے کوئی تعلق نہیں کہ جو لوگ زمین پر حاکم بن کر اپنا قانون چلا رہے ہوں ان سے لڑ کر انہیں ختم کرو اور زمین پر خدائی قانون کا نفاذ کرو۔ اس آیت کے اندر حال میں موجود ایک صورت کا ذکر ہے نہ کہ مستقبل کی نسبت سے سیاسی مشن کا تعین۔
اس آیت میں دراصل یہ بتایا گیا ہے کہ کسی امت کی حالت اس کے دورِ زوال میں کیا ہوتی ہے۔ ایسے زمانہ میں امت کا زندہ تعلق خدا اور رسول کے ساتھ باقی نہیں رہتا۔ اس کی تو جہات کا مرکز اس کے اکابر اور مشائخ بن جاتے ہیں۔ اکابر کے اقوال اور ملفوظات اس کے لئے اس کے دین کا ماخذ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے مفروضہ بڑوں کی پر اسرار کہانیوں میں جینے لگتے ہیں۔ ان کے نزدیک حق صرف وہ ہوتا ہے جو انہیں اپنے بعد کے علماء و مشائخ سے ملا ہو۔ خدا کی کتاب ان کے لئے برکت کا ذریعہ بن جاتی ہے، وہ ان کے لئے حق و باطل میں تمیز کی کسوٹی نہیں ہوتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues