ہندوستانی مسلمان
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۲۶
سے چیلنج کی زد میں ہے اس کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ محنت کرے ۔ وہ اپنے وسائل کو زیادہ بہتر اور زیادہ منظم طور پر استعمال کرے ۔ وہ پیش آمدہ مسائل کا برتر حل (superior solution) دریافت کرے ۔ اس قسم کی مسلسل سوچ اس کے اندر وہ چیز پیدا کر دیتی ہے جس کو نفسیاتی علماء دماغی طوفان (brain storming) سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اکثریتی فرقہ کے حالات اگر اس کے افراد کو ذہنی جمود میں مبتلا کر دیتے ہیں تو اقلیتی فرقے کے حالات اس کے افراد کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا کرنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر تاریخ کے تمام بڑے بڑے تہذیبی واقعات ہمیشہ اقلیتی گروہ کے ذریعہ ظہور میں آئے ۔ اکثریتی گروہ نے کبھی کوئی بڑا تاریخی واقعہ انجام نہیں دیا۔
ہندوستانی مسلمان
قرآن میں بیان کردہ مذکورہ قانون اور اس کی تاریخی تصدیق پر غور کیجئے تو ایک نہایت اہم حقیقت دریافت ہوتی ہے۔ خوش قسمتی سے اس حقیقت کا تعلق ہندوستانی مسلمانوں سے ہے ۔ موجودہ ہندوستانی مسلمان اس کا عین مصداق قرار پاتے ہیں۔ اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں ساری صورت حال اچانک بدلی ہوئی نظر آئے گی۔ وہ قوم جس کا معاملہ آج بظاہر ایک المیہ کی صورت میں دکھائی دیتا ہے وہ اچانک ایک طربیہ نظر آنے لگتا ہے۔ ایک قوم جو آج بظاہر ملک کے لئے ایک بوجھ (liability) سمجھی جارہی ہے، وہ ملک کے لئے ایک قیمتی اثاثہ (asset) کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ مزید یہ کہ ہندوستانی مسلمانوں کی یہ امید افزا حیثیت صرف ہندوستان کے لئے نہیں ہے بلکہ وسیع تر معنوں میں وہ ساری دنیا کے لئے ہے۔
آج کی دنیا کو گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو تمام قوموں میں صرف ہندوستانی مسلمان وہ گروہ ہیں جن کے حق میں مذکورہ تاریخی شرطیں پوری ہورہی ہیں۔ وہ یہاں اقلیت میں ہیں مگر اتنی چھوٹی اقلیت نہیں کہ چیلنج کے مقابلہ میں بے بس ہوکر رہ جائیں ۔ اقلیت میں ہونے کی بنا پر ایک طرف انھیں
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues