جنت کا استحقاق
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۱۶
کہ اس کی کثیف شخصیت پاک وصاف ہو کر لطیف شخصیت میں بدل جائے۔
جنتی انسان وہ انسان ہے جو کانٹوں کے درمیان پھول بن کر رہے۔ جو اندھیروں کے درمیان روشنی کا مینار بن سکے۔ جو زلزلوں اور طوفانوں کے درمیان سکون کا راز پالے۔ جو نفرتوں کے درمیان محبت کا ثبوت دے۔ جو لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود یک طرفہ طور پر انہیں معاف کردے۔ جو کھونے میں بھی پانے کا تجربہ کرے۔
جنتی انسان وہ ہے جو بظاہر خدا سے دور ہوتے ہوئے بھی خدا سے قریب ہو گیا ہو۔ جو سورج کی شعاعوں میں خدا کے نور کودیکھے۔ جو ہواؤں کے جھونکے میں لمس ربانی کا تجربہ کرے۔ جو پہاڑوں کی بلندی میں خدا کی عظمت کا تعارف حاصل کر سکے۔ جو دریاؤں کی روانی میں خدا کی رحمت کا مشاہدہ کرے۔ جو مخلوقات کے آئینہ میں خالق کا جلوہ دیکھنے لگے۔ خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ یہ بتا دیا ہے کہ جنتی انسان کی صفات کیا ہوتی ہیں۔ جو لوگ دنیا کی زندگی میں اپنے اندر جنتی صفات پیدا کریں، وہ موت کے بعد جنت میں داخلہ کے مستحق قرار پائیں گے۔
جنت میں داخلہ نہ کسی سفارش کی بنیاد پر ہو گا، نہ کسی کے ساتھ نسبت کی بنیاد پر اور نہ کسی پر اسرار عملیات کی بنیاد پر۔ جنت میں داخلہ پوری طرح معلوم حقیقت پر مبنی ہے۔ اور وہ یہ کہ جو آدمی موجودہ دنیا میں اپنے قول وعمل کے اعتبار سے جنتی انسان بن کر رہے گا، وہ آخرت کی جنت میں داخلہ پائے گا۔
قرآن کے مطابق، جنت اہل تزکیہ کے لئے ہے۔ تزکیہ یہ ہے کہ آدمی غفلت کی زندگی کو ترک کرے اور شعور کی زندگی کو اپنائے ۔ وہ اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچائے جو حق سے روکنے والی ہیں۔ مصلحت کی رکاوٹ سامنے آئے تو اس کو نظر انداز کر دے۔ نفس کی خواہش ابھرے تو وہ اس کو کچل دے۔ ظلم اور گھمنڈ کی نفسیات جاگے تو وہ اس کو اپنے اندر دفن کر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues