سکون مطلوب نہیں
الرسالہ، جون ۲۰۰۰، صفحہ ۱۰
سکون مطلوب نہیں
ایک کہاوت ہے کہ جہاز بندر گاہ میں زیادہ محفوظ رہتے ہیں۔ مگر جہاز اس لئے نہیں بنائے گئے کہ وہ بندرگاہ میں کھڑے رہیں :
Ships are safer in the harbour, but they are not meant for that purpose. انسان اگر اپنے ٹھکانے پر بیٹھا رہے، وہ نہ سفر کرے، نہ کوئی کام شروع کرے، نہ کسی سے معاملہ کرے، تو ایسا آدمی بظاہر محفوظ اور پر سکون ہو گا۔ مگر انسان کو پیدا کرنے والے نے اس کو اس لئے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ پر سکون طور پر ایک جگہ رہے اور پھر وہ مر کر قبر میں چلا جائے۔ انسان کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ کام کرے۔ وہ دنیا میں ایک زندگی کی تعمیر کرے۔ اس مقصد کے لئے اس کو دنیا کے ہنگاموں میں داخل ہونا پڑے گا۔ وہ ہارنے اورجیتنے کے تجربات اٹھائے گا۔ اس کو کبھی نقصان ہو گا اور کبھی فائدہ۔ اس قسم کے واقعات کا پیش آنا عین فطری ہے۔ اور ایسے واقعات و حوادث کا اندیشہ ہونے کے باوجود انسان کے لئے یہ مطلوب ہے کہ وہ زندگی کے سمندر میں داخل ہو اور اپنی جدوجہد میں کمی نہ کرے۔
مزید یہ کہ پر سکون زندگی کوئی مطلوب زندگی نہیں۔ کیوں کہ جو آدمی مستقل طور پر سکون کی حالت میں ہو اس کا ارتقاء رک جائے گا۔ ایسے آدمی کے امکانات بیدار نہیں ہوں گے۔ ایسے آدمی کی فطرت میں چھپے ہوئے خزانے باہر آنے کا موقع نہ پاسکیں گے۔ اس کے برعکس ایک آدمی جب زندگی کے طوفان میں داخل ہوتا ہے تو اس کی چھپی ہوئی صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ وہ معمولی انسان سے اوپر اٹھ کر غیر معمولی انسان بن جاتا ہے۔ پہلے اگر وہ ایک چھوٹا سا بیج تھا تو اب وہ ایک عظیم الشان درخت بن جاتا ہے۔ زندگی جدوجہد کا نام ہے۔ زندگی یہ ہے کہ آدمی مقابلہ کر کے آگے بڑھے۔ زندگی وہ ہے جو سیلاب بن جائے نہ کہ وہ جو ساحل پر ٹھہری رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2000 All issues