اشاعت اسلام کالج
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۹
اشاعت اسلام کالج
علامہ اقبال (۱۸۷۷ء ۔ ۱۹۳۸ء) نے اپنی عمر کے آخری زمانہ میں لاہور میں ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا تھا جس کا نام تھا اشاعت اسلام کالج۔ اس کا مقصد غیر مسلموں میں کام کرنے کے لئے اسلام کے مبلغ تیار کرنا تھا۔ اس کالج کے پرنسپل یوسف سلیم چشتی (۱۸۹۶ء ۔ (۱۸۹۶۔ ۱۹۸۴) تھے جن سے میری ملاقات ۱۹۷۱ء میں لاہور میں ہوئی۔
اشاعت اسلام کالج چودہ سال تک بے کسی کی حالت میں چل کر آخر کار ختم ہو گیا۔ پروفیسر چشتی نے بتایا کہ اس کے ختم ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کو مسلمانوں کا تعاون نہیں ملا۔ اقبال اپنی ساری مقبولیت کے باوجود اپنے تبلیغی ادارہ کے لئے مسلمانوں کا تعاون حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ پانی سے محروم درخت کی طرح وہ سوکھتا رہا، یہاں تک کہ بالاخر وہ اپنی موت مر گیا۔ یوسف سلیم چشتی مرحوم نے بتایا کہ اقبال کا اندازہ یہ تھا کہ اشاعت اسلام کالج کے فارغ شدہ افراد کو مسلم مدرسے اور مسلم ادارے اپنے یہاں رکھ لیں گے۔ اور اس طرح انہیں موقع ملے گا کہ وہ گھوم گھوم کر غیر مسلموں میں تبلیغ کر سکیں۔ مگر مسلم اداروں نے انہیں قبول نہیں کیا۔ اس کے نتیجہ میں اشاعت اسلام کالج کے فارغ شدہ طلبہ میں مایوسی پیدا ہو گئی اور مزید داخلہ نہ ملنے کی بنا پر کالج اپنے آپ ختم ہو گیا۔
میرے نزدیک اشاعت اسلام کالج اس لئے ناکام ہو گیا کہ وہ ایک غیر منظور شدہ ادارہ تھا۔ جاب مارکیٹ میں اس کی ڈگری کی کوئی قیمت نہ تھی، اس لئے زیادہ قابل عمل بات یہ ہے کہ سند یافتہ اور ڈگری یافتہ لوگوں کو تربیت دے کر اس قابل بنایا جائے کہ وہ جہاں اور جس شعبہ حیات میں رہیں وہاں اپنے ذاتی کام کے ساتھ بقدر امکان دعوت کی ذمہ داریاں بھی ادا کریں۔ ”اشاعت اسلام کالج“ کی زیادہ قابل عمل صورت یہ ہے کہ تعلیم یافتہ افراد کو محدود مدت کے لئے بلایا جائے اور انہیں زبان سکھائی جائے اور دعوتی مضامین پر نہیں تیار کیا جائے۔ تاکہ وہ جہاں بھی ہوں داعی بن کر رہ سکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues