ہریا نہ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰
جو کام خارجی نظام کی مدد سے انجام نہیں دے سکتے اس کو وہ اپنے داخلی انتظام کے تحت انجام دیں۔ وہ اپنی نسلوں کے دینی تحفظ کا انتظام کریں۔ وہ کیسٹ اور لٹریچر اور تقریروں کے ذریعہ اس تعلیمی اور تربیتی مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
اس پروگرام کا دوسرا جزء دعوت ہے۔ دعوت اہل اسلام کے لئے خارجی تبلیغ کے ساتھ داخلی تحفظ کا ذریعہ بھی ہے۔ قرآن میں پیمبر کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ تم اس چیز کو لوگوں تک پہنچادو جو اللہ کی طرف سے تمہارے اوپر اتاری گئی ہے۔ اس دعوتی عمل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تم کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔ (المائدہ ۶۷)
دعوت کیا ہے۔ دعوت انسان کو دین فطرت کی طرف بلانا ہے۔ دعوت گویا لوگوں کو خود ان کے اپنے دین سے روشناس کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دعوت کے اندر تسخیری طاقت موجود ہے۔ دعوت اہل اسلام کے لئے خارجی حالات کے مقابلہ میں تحفظ کا طاقتور ذریعہ ہے۔ دعوت مسئلہ کو نظر انداز کر کے خود مسئلہ پیدا کرنے والے کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ اور تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ طریقہ ہمیشہ کامیاب رہا ہے۔
موجودہ حالات میں مغرب میں آباد مسلمانوں کے لئے قرآن سے جو رہنمائی ملتی ہے وہ یہی ہے۔ یہی دو نکاتی پروگرام ان کے مسئلہ کا حل ہے۔ ”گھروں کو مرکز عمل بنانا“ اگر حالات کے مقابلہ میں دفاعی تدبیر ہے تو دعوت و رگ گویا حالات کے مقابلہ میں عملی اقدام۔ پہلے اصول کی ایک عملی مثال جدید ترکی ہے جہاں سخت قسم کی خارجی ناموافقَت کے باوجود مسلمان اپنے دین کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے۔ دوسرے اصول کی ایک عملی مثال تیر ہویں صدی عیسوی میں پیش آنے والا تاتاریوں کا واقعہ ہے جب کہ بظاہر ایک مخالف قوت کو دعوت کے ذریعہ شاندار طور پر اپنا حامی بنالیا گیا۔
ہریا نہ کا سفر
‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues