م اسی لیے بابا کیا لکھا رہ وہ نمازی
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۵
جھک کر سلام کرنا، دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ سے دعا کرنا۔ وغیرہ ے ۔ سلام کرنا۔ زیارت کرنا) کے ححصہ ہیں، یا پھر ان کے بارے میں یوں کہتے ہیں ل ہو گے، اگر یہ خیال نہ کیا جائے یہ ساری چیزیں انسان کے جسم سے اتنا زیادہ مطابقت رکھتی ہیں، اور ان حرکات میں انسان کے تمام اعضا کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے، جو بظاہر تمام جسم کا حصہ دکھائی نہیں دیتا، مگر انسان کا کوئی ایسا حصہ نہیں جو بنا اگاتا ہو، اور جو انسان کے اعضاء اس طرح شامل ہو جاتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا انسان کا پورا شکل میں اپنے رب کی عبادت کرے۔
م اسی لیے بابا کیا لکھا رہ وہ نمازی
تمام انسان فطرت اللہ پر پیدا کیے گئے ہیں۔ یہ فطرت اللہ یہ ہے کہ آدمی اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے اور نام کی صورت میں اس کی عبادت کرے ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے :
ینابہرش ج ر ےہ ک صا ت ک ب ح م ص س ن ج د ن
فاقيم وجهك للدين حنيفا فطرت الله التي پس کم یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف سیدھا رکھو۔ فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الله کی فطرت جس پر اس نے لوگوں کو بنایا ہے۔ اس کے الدين القيم ولكن اكثر الناس لا يعلمون۔ بنائے ہوئے کو بدلنا نہیں۔ یہی سیدھا دین ہے۔ لیکن منيبين اليه واتقوه واقيموا الصلاة اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اسی کی طرف متوجہ ہو کر اور اس ولا تكونوا من المشركين۔ سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہو۔ نماز کی یہی خاص صفت ہے جس کی بنا پر تاریخ میں اس طرح کی مثالیں ملتی ہیں کہ بہت سے لوگوں نے صرف مسلمانوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر اسلام قبول کر لیا۔
ے۔۔۔۔۔
لہجے میں نرمی اور اپنائیت
آدمی کے اندر جو فطرت ہے وہ عبادت کی فطرت ہے ۔ آدمی کا پورا وجود عبادت کا طالب ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طور پر نماز پڑھنے کا جذبہ لیے ہوئے ہے۔ ہر آدمی کا پورا جسم اور اس کے تمام اعضا نماز کی صورت میں ڈھل جانے کا خاموش داعیہ لیے ہوئے ہیں۔ اب جب ایک آدمی کسی نمازی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کا پورا وجود کہ اٹھتا ہے کہ یہی وہ عمل ہے جس کی طلب وہ اپنے اندر لیے ہوئے تھا۔ نماز اس کو خود اپنی تلاش کا جواب معلوم ہونے لگتی ہے ۔ اس کی فطرت کی یہ تڑپ اس کو مجبور کرتی ہے اور وہ نمازیوں کے ساتھ نماز میں جھک جاتا ہے ۔ (ارکعوامع الراكعين)
‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues