دعا کب قبول ہوتی ہے
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۳
دعا کب قبول ہوتی ہے
قرآن میں مختلف مقامات پر دعا کی حقیقت بتائی گئی ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوا ہے:
ادعوا ربکم تضرعا و خفیة انه لا یحب | پکارو اپنے رب کو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے۔ المعتدین ولا تفسدوا فی الارض بعد | یقیناً وہ پسند نہیں کرتا حد سے نکل جانے والوں کو۔ اور اصلاحها و ادعوه خوفا و طمعا ان رحمت | مت خرابی مچاؤ زمین میں اس کی درستی کے بعد۔ اور پکارو اللہ قریب من المحسنين | اس کو ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے۔ یقیناً اللہ (اعراف ۵۶-۵۵) | کی رحمت قریب ہے نیکی کرنے والوں سے۔
اس موقع پر احسان کا مطلب ہے دعا کے موافق عمل کرنا۔ دوسری جگہ یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی ہے: ومن احسن قولا ممن دعا الی الله وعمل صالحا | اور کون شخص ہے بہتر بات میں اس شخص سے کہ پکارے وقال اننی مسلمین حم سجدہ ۳۳ | اللہ کی طرف اور صالح عمل کرے اور کہے کہ میں حکم بردار ہوں دعا کیا ہے۔ بندے کا اعتراف عجز اپنے رب کے سامنے۔ جب ایک شخص اللہ پر اس حد تک یقین اور بھروسہ کر لیتا ہے کہ اس کی ساری امیدیں بس ایک اللہ سے وابستہ ہو جاتی ہیں۔ اللہ کے سوا کسی اور سے نہ اس کو پانے کی امید ہوتی ہے اور نہ چھینے کا اندیشہ۔ اس وقت اس کی زبان سے جو بنیا بانہ کلمات نکل پڑتے ہیں، اسی کا نام دعا ہے بندہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنے آپ کو اللہ کی سپردگی میں دے دیتا ہے اور کہہ اٹھتا ہے کہ میرے رب! مجھے اپنی رحمتوں کے سایہ میں لے لے ۔ تیرے سوا کوئی کسی کو بچا نہیں سکتا۔ تیرے سوا کوئی کسی کو سایہ نہیں دے سکتا۔ دعا کے یہ الفاظ اللہ کی نظر میں اسی وقت دعا ہیں جب کہ عمل صالح (دعا کے موافق عمل) سے اس کی تصدیق ہو رہی ہو۔ آدمی اپنے رب سے اپنے لئے جس رحمت اور عفو و درگزر کا طالب ہے۔ دوسرے انسانوں کے ساتھ رحمت اور عفو و درگزر کا ہی طریقہ اختیار کرنا زمین کی اصلاح ہے۔ اور جب ایسا ہو کہ آدمی اپنے لئے تو رحمت اور عفو و درگزر کا امید دار ہو اور خود دوسرے انسانوں کے ساتھ سرکشی اور بے پروائی کا طریقہ اختیار کرے تو اس کا نام زمین میں فساد برپا کرنا ہے۔ اللہ کے سامنے حد بندگی میں ہونے کا اقرار کرنا اور دنیا کی زندگی میں جب دوسرے انسانوں سے عملی سابقہ پیش آئے تو حد بندگی سے نکل جانا ایسا تضاد ہے جو ایک طرف زمین کو فساد سے بھر دیتا ہے اور دوسری طرف آدمی کی دعا کو اللہ کی نظر میں بالکل بے معنی بنا دیتا ہے۔ آدمی اپنی دعا کو اللہ کے سامنے پیش کرتا ہے۔ مگر اس بات کا ثبوت اس کو انسانی تعلقات ہی میں دینا ہے کہ وہ اپنی دعا میں محسن ہے یا نہیں۔ جو شخص انسانی تعلقات میں اپنی دعائیہ حیثیت کو بھول جائے اس کی مثال ایسے آدمی کی ہے جس نے زبان سے بڑے بڑے دعوے کئے مگر جب اس کا امتحان لیا گیا تو وہ صفر سے زیادہ نمبر حاصل نہ کر سکا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues