اللہ کی پکار
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۱
اللہ کی پکار
الترمذی اور ابن ماجہ کی ایک روایت روزہ کے بارہ میں ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن باتوں کی خبر دی ان میں سے ایک یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ جب آتا ہے تو اللہ کی طرف سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ اے خیر کے طالب آگے بڑھ اور اے شر کے طالب رک جا (ینادی منادٍ، يا باغيَ الخيرِ اقبل ويا باغى الشرّ اقصر) (مشکاة المصابیح ۶۱۱/۱)
ان الفاظ میں ایک نفسیاتی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ رمضان کے مہینہ میں جب ایک آدمی روزہ رکھتا ہے تو اس کے نتیجہ میں ایسا ہوتا ہے کہ اس کی مادی قوتوں میں اضمحلال پیدا ہوتا ہے، اور اس کی روحانی قوتیں جاگ اٹھتی ہیں، اس طرح فطری طور پر اس کے اندر ایک طلب ابھرتی ہے۔ نیکی کی طرف بڑھنے کی اور برائیوں سے دور بھاگنے کی۔ روزہ آدمی کی شخصیت کے حیوانی پہلو کو دباتا ہے۔ وہ اس کے اندر چھپے ہوئے لطیف احساسات کو بیدار کرتا ہے۔ اس طرح آدمی اس و قابل ہو جاتا ہے کہ اعلیٰ انسانی اقدار کی طرف تیز رفتاری کے ساتھ اپنا سفر طے کر سکے۔
روزہ ایک شدید تجربہ ہے۔ وہ آدمی کے معمولات کو توڑ دیتا ہے۔ آدمی کے صبح و شام غیر معمولی حالات میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں کمزوری آتی ہے۔ جسم ٹوٹنے لگتا ہے۔ بے آرامی اور بے سکونی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
روزہ کا یہ پہلو آدمی کو موت اور آخرت کی یاد دلانے والا بن جاتا ہے۔ موت کے بعد آدمی کے اوپر محرومی اور بے بسی کی جو کلی حالت پیش آنے والی ہے، روزہ گویا جزئی طور پر اسی محرومی اور بے بسی کی پیشگی یاد دہانی ہے۔ روزہ آدمی کو اس و قابل بناتا ہے کہ وہ آنے والے دن کو اس سے پہلے محسوس کرے جب کہ وہ بالکل سامنے آ چکا ہو۔ وہ موت سے پہلے موت کے بعد کی تیاری کرنے میں لگ جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues