Al-Risala · December 2000 · page 36

سلف کنٹرول کی تربیت

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۶

سلف کنٹرول کی تربیت

روزہ کے لیے اصل عربی لفظ صوم ہے۔ صوم کے معنی ہیں رکنا (abstinence) روزہ میں چوں کہ آدمی کھانے پینے سے اور دوسری خواہشوں سے رک جاتا ہے، اس لیے اس کو صوم کا نام دیا گیا۔ اسلامی شریعت میں روزہ مسلسل ایک مہینہ تک کے لیے ہے۔ ہر سال قمری کیلنڈر کے اعتبار سے رمضان کے مہینہ میں یہ روزہ رکھا جاتا ہے۔ سال میں ایک مہینہ کا یہ روزہ ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو اس کو رکھنے کی طاقت رکھتا ہو۔

یہ روزہ رمضان کے مہینہ کی پہلی تاریخ سے شروع ہوتا ہے اور مہینہ کی آخری تاریخ کو ختم ہوتا ہے۔ چوں کہ اس کا انحصار چاند دیکھنے پر ہے، اس لیے وہ کبھی ۲۹ دن کا ہوتا ہے اور کبھی ۳۰ دن کا۔ صبح کو روزہ شروع کرنے سے پہلے جو کھانا کھایا جاتا ہے اس کو سحری کہتے ہیں۔ اس سحری کا وقت صبح صادق (morning twilight) کے ظہر تک رہتا ہے۔ روزہ توڑنے کے لیے جو کھانا کھایا جاتا ہے اس کو افطار کہتے ہیں۔ اس کا وقت سورج ڈوبنے کے فوراً بعد شروع ہوتا ہے۔ روزہ دار پر کھانے پینے وغیرہ کی جو پابندی ہے وہ صرف دن کے لیے ہے۔ رات کے وقت کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں۔

شام کو روزہ توڑتے وقت جو دعا پڑھی جاتی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے : خدایا، میں نے تیرے حکم سے روزہ رکھا اور تیری اجازت سے میں نے افطار کیا۔ یہ دعا روزہ کی روح کو بتاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کی اصل روح یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خدا کی مرضی کا پابند بنائے ۔ یہ پابندی پوری زندگی میں مطلوب ہے۔ رمضان کے مہینہ کا روزہ اسی پابند زندگی کی ایک سالانہ علامتی مشق ہے ۔

اسلام کے مطابق، موجودہ دنیا میں انسان کو امتحان (Test) کے لیے رکھا گیا ہے۔ اس کو جو آزادی ملی ہے وہ اسی لیے ہے کہ وہ اس کو خود اپنی مرضی سے خدا کے حکموں کی پابندی میں استعمال کرے ۔ آزادی کے اس پابند استعمال کے لیے آدمی کو اپنی خواہشوں پر روک لگانا پڑتا ہے۔ اس کے لیے سلف کنٹرول کی استعداد درکار ہے۔ روزہ اسی سلف کنٹرول کی سالانہ تربیت ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues

Printed page