Al-Risala · January 2001 · page 19

قبل از وقت اقدام نہیں

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۱۹

کردوں۔ آپ نے فرمایا: دعہ لا يتحدث الناس ان محمدا يقتل اصحابه. (فتح الباری ٨/ ٥٢) یعنی اس کو چھوڑ دو۔ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔

اس واقعہ سے پیغمبر اسلام ﷺ کا ایک خاص اسوہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ...... توہین کو برداشت کر لو۔ کیونکہ اگر تم نے توہین کو برداشت نہ کیا تو اس سے بھی زیادہ بڑی برائی سامنے آئے گی، اور وہ خدا کے دین کی بدنامی ہے۔

قبل از وقت اقدام نہیں

پیغمبر اسلام ﷺ تقریباً ۱۳ سال تک مکہ میں رہے یہاں کی اکثریت آپ کی مخالف بنی رہی۔ انھوں نے ہر طرح آپ کو ستایا۔ تاہم آپ کے دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں وہاں کے تقریباً دو سو مرد اور عورت اسلام میں داخل ہو گئے۔ یہ لوگ بار بار آپ سے یہ کہتے کہ ہم ظلم کے خلاف جہاد کریں گے۔ مگر آپ ہمیشہ انھیں صبر کی تلقین کرتے رہے۔ مثلاً حضرت عمر فاروق نے قریش کے مظالم کے خلاف جہاد کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: یا عمر انا قلیل (سیرت ابن کثیر ١/ ٤٤١) یعنی اے عمر ہم تھوڑے ہیں۔ مکی دور کے آخر میں مدینہ کے تقریباً دو سو آدمی اسلام میں داخل ہوگئے۔ ان لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ مکہ کے لوگ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو ظلم وزيادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں تو انھوں نے بھی کہا کہ ہم کو ان ظالموں کے خلاف لڑنے کی اجازت دیجئے مگر ان سے بھی آپ نے یہی فرمایا کہ صبر کرو کیوں کہ مجھے قتال کی اجازت نہیں دی گئی۔ (اصبروا فانی لم اومر بالقتال)

پیغمبر اسلام ﷺ نے ہر قسم کے ظلم وزيادتی کے باوجود تقریباً ۱۵ سال تک یکطرفہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues

Printed page