Al-Risala · January 2001 · page 25

صورتِ موجودہ کو مان لینا

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۲۵

تدبیر کو استعمال کر کے زندگی کی ہر مشکل کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔ تدبیری پسپائی پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانے میں ٨ھ میں ایک جنگ ہوئی۔ یہ شام کی سرحد پر مؤتہ کے مقام پر ہوئی اسی نسبت سے اس کو جنگ مؤتہ کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار تھی۔ اس کے مقابلہ میں فریق ثانی کی فوجی تعداد غیر متناسب طور پر بہت زیادہ تھی۔ آخری مرحلہ میں خالد بن الولید اس کے سردار مقرر ہوئے انھوں نے لڑائی کو غیر مفید سمجھ کر واپسی کا فیصلہ کیا۔ وہ تدبیری پسپائی (Tactical retreat) کے اصول پر مؤتہ سے واپس ہو کر مدینہ چلے گئے۔

عربوں کا مزاج لڑنے مرنے کا مزاج تھا۔ وہ اس پسپائی کی حکمت کو سمجھ نہ سکے۔ چنانچہ جب وہ مدینہ پہنچے تو وہاں کے نوجوانوں نے یا فرار کہه کر ان کا استقبال کیا۔ یعنی اے بھاگنے والو۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اس کو سنا تو آپ نے اس کی تردید فرمائی۔ آپ نے کہا کہ یہ لوگ بھاگنے والے نہیں ہیں بلکہ خدا نے چاہا تو وہ اقدام کرنے والے ہیں۔ (لیسوا بالفرار ولكنهم الكرار انشاء الله تعالی) (سیرت ابن هشام ۴۳۸/۳)

پیغمبر اسلام ﷺ کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک صحیح اقدام وہ ہے جو نتیجہ خیز ثابت ہو سکے۔ محض جوش اور وقار کے لئے لڑ کر مر جانا کوئی مطلوب اسلامی کام نہیں۔ اگر اہل ایمان کے مقابلے میں فریق ثانی کی طاقت فیصلہ کن حد تک زیادہ ہو تو ایسی حالت میں مقابلہ کے لئے اقدام نہیں کیا جائے گا۔ حتی کہ اگر مقابلہ پیش آ جائے تو تدبیری پسپائی اختیار کی جائے گی۔ تاکہ مزید تیاری کر کے اپنے آپ کو نتیجہ خیز اقدام کے قابل بنایا جا سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues

Printed page