فطرت کی آواز
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۳۰
ارادے کا علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ آپ ایک دھارمک آدمی ہیں میں آپ کو اپنے ساتھ علیگڑھ تک لے چلوں گا۔ آپ درمیان میں نہیں اتر سکتے۔ تاہم میں وہاں ٹھہر نہ سکا اور ہاپوڑ ریلوے اسٹیشن پر اتر کر دوسرے ڈبے میں چلا گیا۔ البتہ میں نے یہ کیا کہ اس وقت میرے بیگ میں اسلامی مرکز دہلی کی چھپی ہوئی کتاب ’انسان اپنے آپ کو پہچان‘ (ہندی) کا ایک نسخہ تھا، وہ میں نے گارڈ صاحب کو پڑھنے کے لئے دے دیا اور اتر کر دوسرے ڈبے میں سوار ہو گیا۔
گھر واپس آنے کے بعد میں اس واقعہ کو تقریباً بھول چکا تھا مگر ڈیڑھ مہینہ بعد مذکورہ گارڈ کا ایک خط ملا۔ گارڈ صاحب کو میں نے جو کتاب دی تھی اس پر میرے پتے کی مہر لگی ہوئی تھی۔ اس پتہ کو دیکھ کر گارڈ صاحب نے میرے نام یہ خط بھیجا تھا۔ میری طرف سے جواب میں تاخیر ہوئی تو ان کا دوسرا خط آگیا۔ انہوں نے اپنے خطوط میں یہ لکھا کہ آپ کی دی ہوئی کتاب میں نے کئی بار پڑھی۔ انہوں نے لکھا کہ واقعہ یہ ہے کہ اس کتاب نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔ اس نے میرے اندر نئی سوچ پیدا کر دی۔ اب میں اس قسم کی اور کتابیں پڑھنا چاہتا ہوں۔ مسٹر رام کمار ورما (گارڈ) نے خط کے ذریعہ یہ خواہش ظاہر کی کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ طے شدہ وقت کے مطابق میرٹھ کے ریلوے اسٹیشن کے گیسٹ ہاؤس میں ان سے ملاقات ہوئی انہوں نے بتایا کہ آپ کی دی ہوئی کتاب کو پڑھنے کے بعد میرے اندر اسلام کے مطالعہ کا شوق پیدا ہوا، چنانچہ میں ہندی میں اسلامی کتابیں حاصل کر کے ان کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ اس مطالعہ کے بعد میرے اندر بہت سی فکری و عملی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ پہلے میں شراب کا سخت عادی تھا۔ مگر اب میں شراب کو بالکل چھوڑ چکا ہوں۔
اس واقعہ کو جب میں نے سنا تو میں نے کہا کہ یہ مسٹر گارڈ کا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ مسٹر نیچر کا واقعہ ہے۔ ہر آدمی جو اس دنیا میں پیدا ہوا ہے وہ مسٹر نیچر ہی ہے۔ دعوت کا کام یہ ہے کہ لوگوں کو ان کی اپنی اس حقیقت سے آگاہ کر دیا جائے۔ اس کے بعد ہر آدمی دینِ فطرت کو اس طرح قبول کر لے گا جیسے کہ وہ اس کی اپنی ہی بھولی ہوئی چیز ہو۔