عملی حالات کی رعایت
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۲۷
عملی حالات کی رعایت
پیغمبر اسلام ﷺ نے ذی الحجہ ۹ھ میں حج کا فریضہ ادا فرمایا۔ اس کو عام طور پر حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان اکٹھے تھے۔ آپ نے اپنے خطبہ میں جو باتیں فرمائیں ان میں سے ایک وہ تھی جس کو انسانی مساوات کا اعلان کہا جاسکتا ہے۔ آپ نے اس موقع پر یہ تاریخی الفاظ فرمائے کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر فضیلت نہیں۔ فضیلت کا تعلق صرف دین اور تقویٰ سے ہے۔
اس خطبہ کے تقریبا ڈھائی ماہ بعد مدینہ میں آپ کی وفات ہو گئی۔ آپ کی وفات کے بعد یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ کس کو خلیفہ بنایا جائے۔ مذکورہ اعلان کے مطابق بظاہر صرف یہ ہونا چاہئے تھا کہ دین اور تقویٰ کی بنیاد پر خلافت کا فیصلہ کیا جائے نہ کہ نسل اور قبیلہ کی بنیاد پر۔ مگر عملا ایسا نہیں ہوا۔
آپ کی وفات کے بعد مدینہ کی ایک چو پال (ثقیفہ بنی ساعدہ) میں مسلمانوں کا اجتماع ہوا۔ لوگوں کا پہلار جحان یہ تھا کہ سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنایا جائے جو مدینہ کے ایک قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس وقت حضرت ابو بکر صدیق نے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث پیش کی کہ الائمۃ من قریش۔ یعنی خلیفہ یا امام قریش سے ہوگا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سعد بن عبادہ چونکہ قبیلہ قریش سے نہیں ہیں اس لئے ان کو خلیفہ نہیں بنایا جا سکتا۔ کسی قدر بحث کے بعد آخر کار لوگوں کا اس پر اتفاق ہو گیا کہ قبیلہ قریش ہی کے کسی شخص کو خلیفہ بنایا جائے۔ اس کے مطابق حضرت ابو بکر صدیق خلیفہ اول مقرر ہوئے جو کہ قریش سے تعلق رکھتے تھے۔ بظاہر یہ ایک متضاد بات ہے۔ پھر پیغمبر اسلام ﷺ نے ایسا کیوں فرمایا۔ اس کے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues