آخری انجام
الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۱۴
آخری انجام
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ۔ اور جس دن انکار کرنے والے آگ کے سامنے لائے جائیں گے ، تم اپنی اچھی چیزیں دنیا کی زندگی میں لے چکے اور ان کو برت چکے تو آج تم کو ذلت کی سزا دی جائے گی ، اس وجہ سے کہ تم دنیا میں ناحق تکبر کرتے تھے اور اسی وجہ سے تم نافرمانی کرتے تھے۔ (الاحقاف ۲۰)
اس آیت میں کفر سے مراد حق کا انکار کرنا ہے۔ اس میں جس کردار کا ذکر ہے وہ دراصل وہ انسان ہے جس کے سامنے حق کھلے دلائل کے ساتھ آیا مگر اس نے ذاتی مصلحتوں کی بنا پر اس کو نہیں مانا۔ وہ ایک ایسی حقیقت کا منکر بن گیا جس کا ہر سر حق ہونا اس کے سامنے واضح ہو چکا تھا۔ اس کردار سے مراددراصل کسی سماج کے وہ خواص ہیں جو کسی سے اپنے ماحول میں ممتاز درجہ حاصل کئے ہوئے ہوں۔ مثلاً کوئی کسی قدیم گدی پر بیٹھ کر بڑا بنا ہوا ہو۔ کوئی تحفظ قوم کے نام پر قیادت حاصل کئے ہوئے ہو۔ کوئی کسی عوامی کار گزاری کو دکھا کر لوگوں کی نظر میں اونچا بن گیا ہو ، وغیرہ۔ ایسے لوگوں کے سامنے جب خالص حق کی آواز بلند ہوتی ہے تو ایک طرف وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ آواز بلاشبہ صداقت کی آواز ہے۔ مگر دوسری طرف شعوری یا غیر شعوری طور پر انھیں یہ اندیشہ رہتا ہے کہ اگر وہ اس حق کا کھلا اعتراف کریں تو وہ ان کے لئے اپنی حاصل شدہ حیثیت کی نفی کے ہم معنی بن جائے گا۔ یہ احساس ان کے اوپر اتنا زیادہ غالب آتا ہے کہ وہ حق کو حق سمجھتے ہوئے اس کا انکار کر دیتے ہیں۔
یہی وہ لوگ ہیں جن کا قرآن کی مذکورہ آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ آخرت میں ان کی شخصیت کے اس پہلو کو کھول دیا جائے گا۔ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں جب تم نے حق کا اعتراف نہیں کیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ تم چاہتے تھے کہ اپنے ملے ہوئے دنیوی فائدوں کو باقی رکھو۔ تم نے دنیا کے فائدے کی خاطر آخرت کے فائدوں کو نظر انداز کر دیا۔ پھر جب تم اپنا فائدہ دنیا میں لے چکے تو آخرت کی نعمتوں میں تمہارے لئے کوئی حصہ نہیں۔ یہاں تمہارے لئے صرف محرومی ہے اور ابدی عذاب۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues