اسلامی تاریخ کی مثال
الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۲۹
نے اپنے بعد امت کو جو ہدایات دیں، ان میں ایک انتہائی اہم ہدایت یہ تھی کہ سیاسی نظام میں بگاڑ ہو تب بھی تم لوگ نظام سے نہ ٹکرانا بلکہ نظام (سسٹم) کو نظر انداز کرتے ہوئے فرد کی اصلاح پر اپنی ساری کوششیں جاری رکھنا۔ (تفصیلی حوالوں کے لئے ملاحظہ ہو 'فکر اسلامی') واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں کچھ مسلم رہنماؤں کے استثناء کو چھوڑ کر اسلام کی اب تک کی پوری تاریخ میں پیغمبر اسلام کی اس ہدایت پر عمل ہوتا رہا ہے۔ خلافت راشدہ کے بعد بنوامیہ کے زمانہ ہی میں سیاسی بگاڑ آگیا تھا۔ یہ بگاڑ انیسویں صدی کے مسلم حکمرانوں تک جاری رہا۔ مگر ہر دور میں امت کے نمائندہ لوگوں نے اعراض کی پالیسی اختیار کی۔ وہ مختلف پہلوؤں سے اس کام پر لگے رہے جس کو ہم نے اصلاح افراد یا اصلاح قلب کا نام دیا ہے۔ صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء، علماء اور صوفیاء ہر دور میں کثیر تعداد میں پیدا ہوئے مگر تقریباً ہر ایک نے اصلاح پر اپنے آپ کو وقف رکھا۔ وہ موجودہ طرز کے انقلاب نظام والے کام میں کبھی مشغول نہیں ہوئے۔
اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام کی پچھلی ہزار سالہ تاریخ ان تباہیوں سے پاک رہی جس کا نمونہ موجودہ زمانہ میں دیکھا جا رہا ہے۔ اسلامی ادارے پر سکون طور پر کام کرتے رہے۔ اسلامی علوم کی خدمت موافق حالات میں جاری رہی۔ دعوت و اصلاح کا کام کسی رکاوٹ کے بغیر فطری انداز میں جاری رہا۔ مسلم معاشرہ میں کم و بیش اسلامی قدروں کا رواج ہر دور میں باقی رہا، وغیرہ۔ تفسیر کے نام پر تحریف مذکورہ برائی کی آخری بدترین صورت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ایسے مسلم مفکرین اٹھے جنھوں نے اسلام کی محرفانہ تعبیر کر کے انقلاب نظام کے کام ہی کو امت مسلمہ کا مشن ثابت کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے شرک کی فہرست میں "سیاسی شرک" کا اضافہ کیا۔ انہوں نے طاغوت کے مفہوم میں خود ساختہ توسیع کر کے سیکولر حکمرانوں کو طاغوت کے ہم معنی قرار دیا۔ انہوں نے عبادت کو اطاعت بتایا اور اس کے بعد ساری سیاست کو اس میں داخل کر دیا۔ انہوں نے حکم کو
‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues