Al-Risala · July 2001 · page 42

تنقید کا فائدہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۴۲

سے وہ صرف کچھ شخصیتوں کو جانتے ہیں نہ کہ خود حق و صداقت کو۔

تنقید کا فائدہ

تنقید کوئی برائی نہیں، تنقید ایک نعمت ہے۔ تنقید علم کے نئے گوشوں کو کھولتی ہے۔ تنقید کے ذریعہ معاملہ کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ تنقید کوئی عیب زنی نہیں۔ تنقید اپنی حقیقت کے اعتبار سے ناقد شخص اور زیر تنقید شخص کے درمیان ایک قسم کی تفکیری شرکت (intellectual sharing) ہے جو دونوں ہی کے لئے یکساں طور پر مفید ہے۔ تنقید یکساں طور پر دونوں کے ذہنی افق کو وسیع کرتی ہے۔ سچی تنقید ایک انسان کی طرف سے دوسرے انسان کے لئے علمی تحفہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ خلیفہ دوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ اس شخص پر رحم کرے جو مجھ کو میرے عیوب کا ہدیہ بھیجے (رحم اللہ امرأ اهدى الى عيوبي)

تنقید کا انتہائی مفید ہونا راقم الحروف کے لیے صرف ایک نظری بات نہیں۔ وہ میرے لئے ایک عملی تجربہ ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہ ہوگا کہ میں پیدائشی طور پر ایک تنقید پسند آدمی ہوں۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر میں اپنے قریبی ساتھیوں سے ہمیشہ یہ امید کرتا ہوں کہ وہ میرے اوپر علمی تنقید کریں۔ اس معاملہ میں میرا مزاج کیا ہے اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہو تا ہے۔ میرے ایک رفیق کار مولانا انیس لقمان ندوی تقریباً ۸ سال تک میرے ساتھ تھے۔ اب وہ ایک عرب ملک میں ہیں۔ پہلی بار جب وہ عرب گئے تو ایک شیخ نے ان سے پوچھا کہ تم ہندوستان میں کیا کام کرتے ہو۔ انہوں نے جواب دیا: انا ناقد اکبر ناقد فی الہند (میں ہندوستان کے سب سے بڑے ناقد کا ناقد ہوں) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تنقید کے معاملہ میں میرا ذوق کیا ہے۔

ایک صاحب علم کے لئے سب سے زیادہ لذیذ چیز علمی تبادلہ خیال ہے۔ تنقید میں بظاہر ایک شخص سامنے آتا ہے۔ مگر حقیقۃ تنقید کا نشانہ شخص نہیں ہو تا بلکہ موضوع ہوتا ہے۔ سچی تنقید

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page