تنقید کا فائدہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۵۰
مشرقیوں کے لیے ہے) بظاہر دیکھئے تو آج مغربی قوموں کا سیاسی تسلط ختم ہو چکا ہے اور تقریباً ساٹھ آزاد مسلم ممالک دنیا کے نقشہ پر وجود میں آ چکے ہیں۔ مگر حقیقی حالات کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہوا۔ مسلم قومیں آج بھی اہل مغرب کی بالاتری کے تحت جینے پر مجبور ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سید جمال الدین افغانی حالات کو صرف ظاہر کے اعتبار سے دیکھ سکے، وہ گہری حقیقتوں سے آشنا نہ ہو سکے۔ وہ انگریز اور فرانسیسیوں کے غلبہ کو صرف سیاسی غلبہ کے ہم معنی سمجھتے رہے۔ مگر یہ اصل معاملہ کا صرف ایک ظاہری پہلو تھا۔ اصل حقیقت یہ تھی کہ مغربی قوموں نے علم میں تقدم حاصل کر لیا تھا، وہ سائنس اور ٹکنالوجی میں مسلمانوں سے آگے بڑھ گئے تھے۔ سید جمال الدین افغانی اپنے قدیم سیاسی ذہن کی بنا پر معاملہ کے ان گہرے پہلوؤں کو نہ دیکھ سکے۔
سید جمال الدین افغانی اگر جدید زمانہ میں علم کی اہمیت کو سمجھتے تو وہ بیرونی غلبہ کو ایک وقتی چیز سمجھ کر نظر انداز کر دیتے اور اپنی ساری طاقت اس راہ پر لگا دیتے کہ مسلمان علمی اعتبار سے اس طرح آگے بڑھ سکیں جس طرح مغربی قومیں اس میدان میں آگے بڑھ گئی ہیں۔ اگر وہ بے فائدہ سیاسی جہاد کو چھوڑ کر علمی جہاد میں سرگرم ہو جاتے اور اپنے ساتھیوں کو اس راہ پر لگا دیتے تو یقینی ہے کہ مسلم ملکوں کی تاریخ اس سے مختلف ہوتی جو آج ہر طرف دکھائی دیتی ہے۔ یہ چند مثالیں بتاتی ہیں کہ مذکورہ پانچ شرطیں مقید اجتہاد کے لئے بلاشبہ کافی ہیں۔ مگر مقید اجتہاد یا مطلق اجتہاد کے لئے ایک اور شرط لازمی طور پر ضروری ہے اور وہ ہے زمانہ کے حالات سے گہرائی کے ساتھ باخبر ہونا۔ اس مزید شرط کے بغیر جو اجتہاد کیا جائے گا وہ سراسر بے نتیجہ رہے گا۔ ایسا اجتہاد کبھی ملت کو نتیجہ خیز رہنمائی نہیں دے سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues