ایمان کا کرشمہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱
ہے ۔ جس آدمی کو اللہ کی توفیق سے ایمان حاصل ہو اس کی نفسیاتی شخصیت اور اس کا پورا فکری وجود بدل جاتا ہے ۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ ہر معاملے کو اللہ کی نظر سے دیکھے، ہر معاملہ کو آخرت کی سوچ میں ڈھال لے۔
ایسا آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ منفی صورت حال کا بھی مثبت جواب (positive response) دے۔ وہ انسانی تجربہ میں بھی اللہ کو یاد کرنے لگے۔ وہ اپنے مادی نقصان میں بھی روحانی یافت کا تجربہ کرے ۔ اس سے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو یہ غلطی اس کے اندر خود احتسابی کا جذبہ پیدا کر کے اس کو اور زیادہ نیکی کی طرف مائل کر دے۔ ایمان کے ذریعہ بننے والے یہی وہ خاص انسان ہیں جن کو اللہ کی خصوصی مدد سے یہ توفیق ملتی ہے کہ ان کی برائیاں بھی نیکیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ ان کی شخصیت گویا ایک ایسا سانچہ (mould) بن جاتی ہے جس میں داخل ہونے والی ہر چیز ربانی نمونہ میں ڈھل جائے ، خواہ ابتدائی طور پر بظاہر وہ غیر ربانی دکھائی دیتی ہو۔
سیئات کا حسنات بن جانا دراصل تغیر (conversion) کا ایک عمل ہے، یہ ویسا ہی ہے جیسے دودھ دینے والے ایک جانور کے اندر غیر دودھ (non-milk) داخل ہوتا ہے اور وہ دودھ (milk) بن کر باہر آتا ہے۔ جانور کے اندر یہ واقعہ ایک فطری عمل (natural process) کے تحت ہوتا ہے۔ اور ربانی انسان کے اندر اس قسم کا واقعہ ایک ذہنی عمل (intellectual process) کے تحت پیش آتا ہے۔ مومن کا ترقی یافتہ شعور اس کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ خارجی حالات سے متاثر ہوئے بغیر خود اپنے آزاد ذہن کے تحت سوچے، وہ رد عمل کی نفسیات میں مبتلا ہوئے بغیر اعلی انسانیت پر قائم رہے۔ ندامت کے آنسو اس کی برائی کو بھی اس کے اعمال نامہ میں نیکی کے عنوان کے تحت درج کر دیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues