تدبیر اور توکل
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۶
الترمذی نے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی سواری کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے لڑکے یا اے میرے بیٹے، کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتاؤں کہ اس کے ذریعہ سے اللہ تم کو نفع پہنچائے۔ میں نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اللہ کو یاد رکھو، اللہ تمہیں یاد رکھے گا۔ تم اللہ کو یاد کرو، تم اس کو اپنے سامنے پاؤ گے ۔ تم خوش حالی میں اللہ کو نہ بھولو، وہ تم کو تنگی میں سمجھ لے گا۔ جب تم مانگو تو اللہ سے مانگو۔ اور جب تم مدد طلب کرو تو اللہ سے مدد طلب کرو۔ کیوں کہ جو ہونے والا ہے وہ سب لکھا جا چکا ہے۔ پس اگر تمام انسان تم کو کوئی تکلیف پہنچانا چاہیں جس کا فیصلہ اللہ نے تمہارے لیے نہ کیا ہو تو وہ اس پر قادر نہ ہوں گے۔ اور اللہ کے لیے عمل کرو شکر اور یقین کے ساتھ ۔ اور جان لو کہ جو چیز تم کو ناپسند ہو اس پر صبر کرنے میں تمہارے لیے بہت زیادہ بھلائی ہے۔ اور اللہ کی مدد صبر کے ساتھ ہے۔ اور کشادگی تکلیف کے ساتھ ہے ۔ اور بے شک آسانی مشکل کے ساتھ ہے۔ (الجامع لأحكام القرآن للقرطبی ۵ / ۳۹۸)
ایمانی زندگی تدبیر کے ساتھ توکل کا نام ہے اور توکل کے ساتھ تدبیر کا۔ تدبیر اگر انسانی محنت کا اظہار ہے تو توکل اللہ کے قادر مطلق ہونے کا اظہار ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں انسان کے ساتھ بری حالت بھی پیش آتی ہے اور اچھی حالت بھی۔ اور ان دونوں ہی کا مقصد صرف ایک ہوتا ہے اور وہ آزمائش ہے (ونبلوکم بالشر والخیر فتنة) الانبیاء ۳۵۔
اس سے معلوم ہوا کہ دکھ اور سکھ اگرچہ بظاہر ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ مگر اللہ کے تخلیقی منصوبہ کے مطابق، دونوں کی حیثیت ایک ہے اور دونوں کا مقصد بھی ایک ہے۔ اللہ کے تخلیقی منصوبہ کے مطابق، انسان کو چاہئے کہ جب اس پر دکھ کی حالت پڑے تو وہ اپنے سکھ کی حالت کو یاد کرے اور اس طرح اپنے اس اعتماد کو زندہ رکھے کہ اللہ اس کے دکھ کو سکھ میں بدلنے پر قادر ہے۔ اسی طرح جب وہ زندگی میں سکھ کا تجربہ کرے تو وہ اپنے دکھ کے لمحات کو یاد کرے اور اس طرح اس حقیقت کو اپنے ذہن میں تازہ کرے کہ اللہ اگر چاہے تو اس سے سکھ کو چھین لے اور اس کو دکھ کی حالت میں مبتلا کر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues