Al-Risala · November 2001 · page 5

اخلاقی زہر

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۱، صفحہ ۵

اخلاقی زہر

۶ جنوری ۱۹۹۰ کو دہلی (شکر پور) میں ایک درد ناک واقعہ ہوا۔ کچھ چھوٹے بچے ایک میدان میں کھیل رہے تھے۔ وہاں ایک طرف کوڑے کا ڈھیر تھا۔ وہ کھیلتے ہوئے اس کوڑے تک پہنچ گئے۔ یہاں انھیں ایک پڑی ہوئی چیز ملی۔ یہ کوئی زہریلی چیز تھی۔ مگر انہوں نے بے خبری میں اس کو اٹھا کر کھا لیا۔ اس کے نتیجہ میں دو بچے فوراً ہی مر گئے، اور آٹھ بچوں کو تشویش ناک حالت میں جے پرکاش زنائن اسپتال میں داخل کرنا پڑا یہ بچے دو سال سے پانچ سال تک کے تھے۔

ٹائمز آف انڈیا (۷ جنوری ۱۹۹۰) نے صفحہ اول پر اس کی خبر دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ان بچوں میں سے ایک نے وہاں ایک چھوٹا پیکٹ پایا۔ اس میں تقریباً ڈیڑھ سو گرام کوئی سفید رنگ کا سفوف تھا۔ انہوں نے غلطی سے اس کو شکر سمجھا اور آپس میں تقسیم کر کے کھانے لگے۔ کھانے کے چند منٹ بعد ان کے ہونٹ نیلے پڑ گئے :

One of them found a small packet containing about 150 gm of white, powdery substance. They mistook it for sugar and distributed it among themselves. Within minuters of consuming it, their lips turned blue. مادی خوراک کے اعتبار سے یہ چند بچوں کا واقعہ ہے۔ لیکن اخلاقی خوراک کے اعتبار سے دیکھیئے تو آج یہی تمام انسانوں کا واقعہ ہے۔ آج کی دنیا میں تمام انسان ایسی اخلاقی غذا ئیں کھارہے ہیں جو ان کی انسانیت کے لیے زہر ہیں، جو ان کو ابدی ہلاکت سے دوچار کرنے والی ہیں۔ جھوٹ ، بدکاری، رشوت، غرور، حسد، الزام تراشی ، ظلم، غصب، بددیانتی، وعده خلافی، بد خواہی، بے اصولی، بد معاملگی ، انانیت، بے اعترافی، غلطی نہ ماننا، احسان فراموشی، خود غرضی، انتقام، اشتعال انگیزی اپنے لیے ایک چیز پسند کرنا اور دوسرے کے لیے کچھ اور پسند کرنا، یہ تمام چیزیں اخلاقی معنوں میں زہریلی غذائیں ہیں۔ آج تمام لوگ ان چیزوں کو میٹھی شکر سمجھ کر کھارہے ہیں۔ مگر وہ وقت زیادہ دور نہیں جب ان کا زہرلاپن ظاہر ہوگا۔ اور پھر انسان اپنے آپ کو اس حال میں پائے گا کہ وہاں نہ کوئی اس کی فریاد سننے والا ہوگا اور نہ کوئی اس کا علاج کرنے والا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2001 All issues

Printed page