موت
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۵
موت
موت کیا ہے ، موت معلوم دنیا سے نامعلوم دنیا کی طرف چھلانگ ہے ۔ موت " اپنی دنیا " سے نکل کر " دوسرے کی دنیا " میں جانا ہے ۔ کیسا چونکا دینے والا ہے یہ واقعہ ۔ مگر انسان کی یہ غفلت کیسی عجیب ہے کہ وہ اپنے چاروں طرف لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے ، پھر بھی وہ نہیں چونکتا ۔ حالاں کہ ہر مرنے والا زبان حال سے دوسروں کو بتا رہا ہے کہ جو کچھ مجھ پر گزرا یہی تمہارے اوپر بھی گزرنے والا ہے ۔ آدمی پر وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ کامل بے بسی کے ساتھ اپنے آپ کو خدا کے فرشتوں کے حوالہ کر دے ۔ موت کا واقعہ ہر آدمی کو اسی آنے والے دن کی یاد دلاتا ہے ۔ موت کا حملہ سراسر یک طرفہ حملہ ہے ۔ یہ طاقت اور بے طاقتی کا مقابلہ ہے ۔ اس میں انسان کے بس میں اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ وہ کامل عجز کے ساتھ فریقِ ثانی کے فیصلہ پر راضی ہو جائے ۔ وہ یک طرفہ طور پر شکست کو قبول کر لے ۔
موت انسانی زندگی کے دو مرحلوں کے درمیان حد فاصل ہے ۔ موت آدمی کو موجودہ دنیا سے اگلی دنیا کی طرف لے جاتی ہے ۔ یہ اختیار سے بے اختیاری کی طرف سفر ہے ۔ یہ امتحان کے بعد اس کا انجام پانے کے دور میں داخل ہونا ہے ۔
موت سے پہلے کی زندگی میں آدمی صداقت کو تسلیم نہیں کرتا ۔ وہ معقولیت کے آگے جھکنے پر راضی نہیں ہوتا ۔ موت اس لیے آتی ہے کہ اس کو بے یار و مددگار کر کے حق کے آگے جھکنے پر مجبور کر دے ۔ جس صداقت کو اس نے باعزت طور پر قبول نہیں کیا تھا اس کو وہ بے عزت ہو کر قبول کرے ۔ جس حق کے آگے وہ اپنے ارادہ سے نہیں جھکا تھا ۔ اس حق کے آگے مجبورانہ طور پر جھکے اور اس کی تردید کے لیے کچھ بھی نہ کر سکے ۔
انسان آج حق کی تائید میں چند الفاظ بولنا گوارا نہیں کرتا ، جب موت آئے گی تو وہ چاہے گا کہ ڈکشنری کے سارے الفاظ حق کی موافقت میں استعمال کر ڈالے ، مگر اس وقت کوئی نہ ہوگا جو اس کے الفاظ کو سنے ۔ انسان آج ڈھٹائی کرتا ہے ، موت جب اس کو پچھاڑے گی تو وہ سراپا عجز و نیاز بن جائے گا ، مگر اس وقت کوئی نہ ہوگا جو اس کے عجز و نیاز کی قدر دانی کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2001 All issues