پندرہ منٹ میں
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۸
پندرہ منٹ میں
ٹائمس آف انڈیا (۲ اپریل ۱۹۹۰) میں اوپینین (Opinion) کے کالم میں مسٹر تقی کیسوانی کی تحریر چھپی ہے۔ وہ اوبرائے ہوٹل (نئی دہلی) میں رومز ڈویژن منیجر ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ایک خاتون سیاح ان کے ہوٹل میں اتریں۔ جب ٹیکسی انھیں اتار کر چلی گئی تو انھیں یاد آیا کہ ان کا ایک بیگ ٹیکسی میں چھوٹ گیا ہے۔ اس بیگ میں ان کا پاسپورٹ، رقم، کیمرا اور زیورات موجود تھے۔ احتیاطاً انھوں نے ٹیکسی کا نمبر نوٹ کر لیا تھا۔ انھوں نے ہوٹل والوں کو بتایا۔ ہوٹل والوں نے فوراً ٹرانسپ کو پولیس کے کنٹرول روم کو ٹیلی فون کیا اور ان کو ٹیکسی کا نمبر بتایا۔ کنٹرول روم نے اسی وقت وائرلیس کے ذریعہ پوری دہلی میں سڑکوں پر کھڑی ہوئی پولیس کو اس واقعہ کی خبر دیدی۔ پورے شہر میں ہزاروں لگا ہیں گزرتی ہوئی ٹیکسیوں کا معائنہ کرنے لگیں۔ ابتدائی اطلاع کے صرف پندرہ منٹ کے اندر پولیس والوں نے ہوٹل کو بتا یا کہ انھوں نے ٹیکسی کو پکڑ لیا ہے اور اس سے مذکورہ بیگ حاصل کر لیا ہے: Within 15 minutes they telephoned to say. they had located the taxi and taken the bag. میں نے اس واقعہ کو پڑھا تو مجھے قرآن کی وہ آیت یاد آگئی جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے جن اور انسان کی جماعت، اگر تم سے ہو سکے تو تم آسمانوں اور زمین کی حدوں سے نکل جاؤ۔ تم نہیں نکل سکتے بغیر (خدا کی) سلطان کے۔ پھر تم اپنے رب کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے۔ تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا تو تم اپنا بچاؤ نہ کر سکوگے۔ (الرحمن ۳۲-۳۵)
مخلوق ایسا کر سکتی ہے کہ وہ ترقی یافتہ مواصلات کے ذریعہ فوری طور پر پولیس کو مطلع کرے اور پولیس منٹوں کے اندر بھاگنے والے کا پتہ کر کے اس کو پکڑ لے۔ جب مخلوق کے اندر یہ طاقت ہے تو خالق کے اندر یہی طاقت مزید بے حساب گنا اضافے کے ساتھ کمال درجہ میں موجود ہوگی۔ آدمی اگر اس پہلو کو سوچے تو اس کی زندگی میں اچانک انقلاب آجائے۔
میں کسی حال میں خدا کی پکڑ سے باہر نہیں، یہی احساس تمام اصلاحات کی جان ہے۔ اس کے بغیر کوئی حقیقی اصلاح ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2001 All issues