Al-Risala · November 2001 · page 43

دو گروه

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۳

دو گروه

جنت خدا کے نیک بندوں کی رہائش گاہ ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل جنت کے دو بڑے طبقے ہوں گے۔ ایک، السابقون سبقت کرنے والے) اور دوسرے، اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) پہلے گروہ کے لیے آخرت میں شاہانہ انعامات ہیں، اور دوسرے گروہ کے لیے عام انعامات (الواقعہہ، رکوع اول)

درجہ اول اور درجہ دوم میں، یہ فرق کس بنیاد پر ہوگا۔ قرآن کے مطابق، اس کی وجہ فتح (الحدید ۱۰) ہے۔ جو لوگ فتح سے پہلے کے دور میں حق کو مانیں اور اس کا ساتھ دیں وہ السابقون کا درجہ پائیں گے۔ اور جو لوگ فتح کے بعد کے دور میں حق کو قبول کریں اور اس کے ساتھی بنیں وہ اصحاب الیمین کے گروہ میں جگہ دیے جائیں گے۔ یہ محض زمانے کا فرق نہیں بلکہ نوعیت کا فرق ہے۔ اور نوعیت ایمان کا یہی فرق دونوں گروہوں کے انجام میں فرق پیدا کر دیتا ہے۔

حق جب ظاہر ہوتا ہے تو ابتداً وہ مجرد صورت میں ہوتا ہے۔ اس کی حیثیت ایک ایسی نظری حقیقت کی ہوتی ہے جس کی پشت پر دلائل کی طاقت کے سوا کوئی اور طاقت موجود نہ ہو۔ بعد کے زمانہ میں جب حق کی دعوت فتح وغلبہ کے مرحلہ میں داخل ہو جاتی ہے تو اس وقت حق کی حیثیت صرف عقلی صداقت کی نہیں ہوتی بلکہ اب اس کی حیثیت مرئی واقع کی بن جاتی ہے۔ اب ہر آنکھ والے کو وہ ایک ٹھوس واقعہ کی صورت میں دکھائی دینے لگتا ہے۔

پہلے دور میں حق کو لفظی دلیل سے پہچانا پڑتا تھا، دوسرے دور میں اس کی اہمیت کو منوانے کے لیے کھلے ہوئے واقعات موجود ہوتے ہیں۔ پہلے دور میں حق کو مانتے ہی آدمی اپنے ماحول کے اندر اجنبی بن جاتا تھا، دوسرے دور میں حق کے ساتھ وابستہ ہونا آدمی کو عزت اور مقبولیت کا مقام دے دیتا ہے۔ پہلے دور میں حق کا ساتھ دینے والا صرف کھوتا تھا، دوسرے دور میں حق کا ساتھ مزید پانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ پہلے دور میں بنیاد کے نیچے دفن ہونا پڑتا تھا، دوسرے دور میں گنبد کی بلندیاں مل جاتی ہیں جن کے اوپر آدمی کھڑا ہو سکے۔ یہی وہ فرق ہے جس کی بنا پر پہلے مرحلہ میں حق کا ساتھ دینے والے کے لیے درجہ اول کا مقام ہے اور دوسرے مرحلہ میں حق کا ساتھ دینے والے کے لیے درجہ ثانی کا مقام۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2001 All issues

Printed page