روزہ کی عظمت
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۳
روزہ کی عظمت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کے بارے میں فرمایا: کل عمل ابن آدم یضاعف الحسنة بعشر أمثالها الى سبعمأة ضعف، قال الله تعالى: إلا الصوم فإنہ لی وأنا أجزی بہ، يدع شهوتہ و طعامہ من أجلى، للصائم فرحتان: فرحة عند فطره، و فرحة عند لقاء ربه، و لخلوف فم الصائم أطيب عند اللہ من ریح المسک والصيام جنة، و إذا كان يوم صوم احدكم فلا يرفث و لايصخب، فإن سابه احد او قاتلہ فليقل: إنی امرؤ صائم۔
انسان کے ہر عمل کی نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ مگر روزہ، پس وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ دار میرے لئے اپنی شہوت کو اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اس کے افطار کے وقت، اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ اور روزہ دار کے منھ سے نکلنے والی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ اور روزہ ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دن ہو تو وہ نہ بدگوئی کرے اور نہ جھگڑا کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔
یہ روایت صحیحین میں اور حدیث کی دوسری کتابوں میں آئی ہے۔ اس سلسلہ میں پہلا سوال یہ ہے کہ روزہ اللہ کے لئے ہے، اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا جواب قرآن سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں روزہ کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور کھلی نشانیاں راستہ کی اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا۔ پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پائے وہ اس کے روزے رکھے (البقرہ ۱۸۵)۔ اس کے مطابق ، نزول قرآن کے مہینہ میں روزہ رکھنے کا حکم اس لیے دیا گیا کہ لوگ خصوصی تربیت کے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues