ربانی تعقل
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲
یہ طریقہ جس کو ہم نے وحدانی تعقل کا نام دیا ہے، وہ اول الذکر یونانی تعقل سے بھی زیادہ غلط تھا۔ اوّل الذکر کو اگر عقلی چستاں کہا جائے تو یہ دوسرا طریقہ کھلی ہوئی ذہنی گمراہی تھا۔ اس طریقہ میں توحید کے عقیدہ کو وحدت وجود (Monism) کے تصور پر ڈھال دیا گیا۔ جب کہ اسلام میں توحید کا عقیدہ وحدتِ خدا (monotheism) کے اصول پر قائم ہے۔ وحدت وجود کا نظریہ سراسر ضلالت ہے اور وحدتِ خدا کا نظریہ سراسر ہدایت۔
موجودہ زمانہ میں مسلم اہل قلم کا ایک اور گروہ پیدا ہوا جس نے اسلامی عقلیت کو سیاسی تعقل کے ہم معنی بنا دیا۔ اس گروہ نے اسلام کی تعلیمات کو سیاسی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے لا الہ الا اللہ کو لا حاکم الا اللہ کے ہم معنی قرار دیا۔ اس گروہ میں مصر کے سید قطب اور پاکستان کے سید ابو الاعلیٰ مودودی، وغیرہ شامل ہیں۔
سیاسی تعقل کا یہ طریقہ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلامی تعقل کی تصغیر تھا۔ اس تشریح میں عقیدۂ اسلامی کی آفاقی وسعت سیاست کے محدود دائرہ میں سمٹ کر رہ گئی۔ اسلامی تعقل کی اس سیاسی تشریح کے نتیجہ میں ایک اور ہلاکت خیز انجام سامنے آیا۔ جو لوگ اس تشریح سے متاثر ہوئے انہیں کرنے کا کام صرف یہ نظر آیا کہ وہ وقت کے سیاسی ڈھانچہ کو توڑیں اور اس کی جگہ اپنے مزعومہ نقشہ کے مطابق، نیا نظام بنائیں۔ اس طرح اس سیاسی تشریح نے مسلم دنیا میں اُس تخریبی سیاست کو مزید شدت کے ساتھ جنم دیا جس کا ایک نمونہ کمیونزم کو ماننے والوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔
قرآن کے مطابق، تفکر اور تدبر کی تشریح کا صحیح طریقہ وہ ہے جس کور بانی تعقل کہا جا سکتا ہے۔ یعنی قرآن کے اشارات کو رہنما بنا کر تخلیق خداوندی کا مطالعہ کرنا اور حقائق فطرت کی روشنی میں اُن کی تشریح و تفصیل کرنا۔ مطالعہ کا یہی اسلوب حقیقی اسلوب ہے۔ اس سے وہ اہل ایمان پیدا ہوتے ہیں جو معرفتِ الہی اور خشیتِ ربانی کی نعمت سے سرشار ہوں۔ قرآن کی سورہ آل عمران کے آخری رکوع میں یہی حقیقت بیان ہوئی ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی اس حقیقت کی طرف بار بار اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ کی دو قرآنی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر ہم نے اُس سے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کر دیئے۔ اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues