Al-Risala · April 2002 · page

ایک سادہ مثال

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

کھول دیا کہ انسان اُن کو استعمال کر کے یقین کے اعلیٰ درجات حاصل کرے۔ اور اسلام کی صداقت کو نئے دلائل و براہین کے ذریعہ لوگوں کے اوپر ثابت شدہ بنائے۔

ایک سادہ مثال

مذکورہ حدیث میں جس حقیقت کو بتایا گیا ہے اُس کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگی کہ انسانی تاریخ کے دو بڑے دور ہیں۔ ایک قبل از سائنس دور (pre-scientific period) اور دوسرا بعد از سائنس دور (post-scientific period) ۔ اس تقسیم کے مطابق، پہلے دور کا انسان روایتی معلومات کی روشنی میں سوچتا تھا۔ اور دوسرے دور میں وہ سائنسی معلومات کی روشنی میں سوچنے لگا۔ اس حدیث کے مطابق ، امت محمدی کے افراد کے لیے روایتی دور بھی ایمانی خوراک کا ذریعہ تھا۔ اسی طرح سائنسی دور میں بھی وہ اپنے ایمانی اضافہ کے لیے علمی خوراک حاصل کرتے رہیں گے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے یہاں ایک سادہ مثال درج کی جاتی ہے۔

قرآن میں بار بار زمین کی نعمتوں کا ذکر آیا ہے۔ اس سلسلہ کی ایک قرآنی آیت یہ ہے: اللّٰہ الذي جعل لكم الأرض قراراً (المؤمن ۶۴) یعنی وہ اللہ ہے جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو ٹھہراؤ ۔ اس آیت میں روایتی دور کے مؤمنین کو بھی ایمان کی غذا ملی تھی۔ یہ سوچ کر اُن کا سینہ شکر خداوندی کے جذبہ سے سرشار ہوگیا تھا کہ زمین کس طرح اُن کے لیے پرسکون جائے قیام بنی ہوئی ہے۔ اگر زمین ہلتی رہتی یا وہ ہچکولے کھاتی تو اس کے اوپر پرسکون زندگی گزارنا کس قدر دشوار ہو جاتا۔ جدید سائنسی دور میں نئے ذرائع سے جو مطالعہ کیا گیا اس سے معلوم ہوا کہ زمین، سابق تصور کے خلاف ساکن اور بے حرکت نہیں ہے بلکہ وہ مسلسل حرکت میں ہے۔ نئی تحقیقات بتاتی ہیں کہ زمین بیک وقت دو طریقہ سے گردش کررہی ہے۔ ایک اپنے مدار (orbit) پر سورج کے گرد، اور دوسرے خود اپنے محور (axis) کے اوپر۔ اس نئی سائنسی تحقیق نے مذکورہ آیت کی معنویت کو اور زیادہ بڑھا دیا۔ نئے حالات میں یہ آیت گویا مزید اضافہ کے ساتھ یہ کہہ رہی ہے کہ کیسا مہربان ہے وہ اللہ جس نے زمین کو تمہارے لیے جائے سکون بنایا، باوجودیکہ زمین مسلسل طور پر دہر حرکت کر رہی ہے : It is Allah who made the earth a stable home for you. (Inspite continous doulbe movement of the earth)

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page