Al-Risala · April 2002 · page

جنگ اور امن اسلام میں

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

بدل جائے گی۔ پیغمبرِ اسلام کو مکہ میں جب پہلی وحی ملی تو اس وقت آپ نے وہاں کے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا کہ اے لوگو، میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ موت کے بعد آنے والے معاملہ کی تمہیں خبر دوں (أنا النذير العريان)۔ اسی طرح مدینہ میں جب آپ غالب حیثیت میں داخل ہوئے اس وقت بھی آپ نے وہاں کے لوگوں سے یہی کہا کہ اے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ خواہ چھو ہارے کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو (اتقوا النار و لو بشق تمرة)۔

قرآن اور سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اسلام کا اصل نشانہ انسان کے ذہن کو بدلنا ہے۔ یہی اسلامی مشن کا اول بھی ہے اور یہی اس کا آخر بھی۔ مگر دنیا میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور خود تخلیقی نقشہ کے مطابق، ہر ایک کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ اسی آزادی کی بنا پر ایسا ہوا کہ کچھ لوگ پیغمبر اسلام کے مخالف بن گئے۔ حتیٰ کہ کچھ لوگ اس آخری حد تک گئے کہ انہوں نے آپ کے مشن کو ختم کرنے کے لئے آپ کے خلاف جنگی کارروائی شروع کردی۔ یہی وہ مسئلہ تھا جس کی بنا پر پیغمبر اور آپ کے اصحاب کو اپنے دفاع میں وقتی طور پر ہتھیار اٹھانا پڑا۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف ایک استثناء (exception) کی ۔ پیغمبرِ اسلام کی پیغمبرانہ عمر ۲۳ سال ہے۔ اس ۲۳ سال میں قرآن وقفہ وقفہ سے حسب حالات اترتا رہا۔ اس اعتبار سے اگر مدت کی تقسیم کی جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کا ایک حصہ وہ ہے جو تقریباً ۲۰ سال کی مدت تک پھیلا ہوا ہے اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جو مجموعی طور پر تقریباً تین سال پر مشتمل ہے۔ ۲۰ سالہ مدت میں قرآن میں جو آیتیں اتریں وہ سب کی سب پر امن تعلیمات سے تعلق رکھتی تھیں، مثلاً عقیدہ، عبادت، اخلاق، انصاف، انسانیت، وغیرہ۔ جہاں تک جنگ کی آیتوں کا تعلق ہے، وہ صرف تین سال کی اس مدت میں اتاری گئیں جب کہ اہل اسلام کو عملاً مسلح جارحیت کا مسئلہ درپیش تھا۔ قرآن میں کل ۱۱۴ سورتیں ہیں۔ مجموعی طور پر قرآن میں کل آیتوں کی تعداد ۶۶۶۶ ہے۔ ان میں بمشکل چالیس آیتیں ایسی ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر جنگ (قتال) سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس تناسب کے اعتبار سے قرآن میں جنگ سے تعلق رکھنے والی آیتوں کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page