Al-Risala · April 2002 · page

-(precisely 0.6 percent) ہے

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

امرین إلا اختار أيسرهما (صحیح البخاری) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے تھے۔ یہ واضح ہے کہ طریقہ کار کی دو قسمیں ہیں۔ پر تشدد طریقہ کار (violent method) اور پرامن طریقہ کار (peaceful method)۔ اب دونوں کا تقابل کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کسی نزاعی معاملہ کے وقت پرتشدد طریقہ کار کو اپنانا مشکل انتخاب (harder option) ہے اور پرامن طریقہ کار کو اپنانا آسان انتخاب (easier option) ہے۔ اس کے مطابق، اسلام کی جنرل پالیسی یہ قرار پاتی ہے کہ جب بھی کسی فریق سے کوئی نزاع پیدا ہو تو اس سے مقابلہ کے لئے ہمیشہ پرامن طریقہ کار کا انتخاب کیا جائے، نہ کہ پرتشدد طریقہ کار۔ موجودہ زمانہ میں جب کہ آزادی کو انسان کا ایک ناقابل تنسیخ حق مان لیا گیا ہے تو اب صرف پرامن طریقہ کار ہی کا انتخاب کیا جائے گا۔ کیوں کہ وقت کے مسلمہ اصول کے مطابق، پرتشدد طریقہ کار کو اختیار کرنے میں تو یقیناً رکاوٹیں ہیں مگر پرامن طریقہ کار کو اختیار کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔

یہاں یہ اضافہ کرنا مناسب ہوگا کہ پیغمبر اسلام کے زمانہ میں محدود نوعیت کی جو چند لڑائیاں پیش آئیں ان میں دراصل زمانی عامل (age-factor) کام کر رہا تھا۔ یہ لڑائیاں ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں ہوئیں۔ یہ زمانہ مذہبی جبر اور مذہبی ایذارسانی (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں موجودہ قسم کا مذہبی ٹالرنس نہیں پایا جاتا تھا۔ اس بنا پر توحید کے مخالفوں نے پیغمبر اسلام کے خلاف جارحانہ کارروائی کرکے آپ کو لڑنے پر مجبور کردیا۔ موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی ہر فرد اور ہر گروہ کا ایک مسلم حق بن چکی ہے۔ اس لئے موجودہ زمانہ میں مذہبی حقوق کے لئے جنگ کا کوئی سوال نہیں۔

اسلام میں امن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ہر ناخوش گوار صورت حال کو برداشت کرتے ہوئے حالت امن کو برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ فریق مخالف کی ایذا رسانی پر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرنا اور اس کو ہر قیمت پر یک طرفہ تدبیر کے ذریعہ باقی رکھنا اسلام کا اہم اصول ہے۔ یہ حکم اس لئے دیا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page