-(precisely 0.6 percent) ہے
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲
جائے۔ اسی مصلحت کی بنا پر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تتمنوا لقاء العدو واسئلوا الله العافية (البخاری) یعنی تم لوگ دشمن سے مُڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے امن مانگو۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: کُلَّمَا اَوقَدُوا نَارًا لِلۡحَرۡبِ اطفاهَا الله (المائدہ ۶۴) یعنی جب کبھی وہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اس کو بجھا دیتا ہے۔ اس قرآنی آیت سے جنگ اور امن کے بارے میں اسلام کی اصل روح معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ دنیا میں مختلف اسباب سے لوگ بار بار جنگ پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ یہ دنیا کے مخصوص نظام کا تقاضا ہے جو مسابقت (competition) کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ مگر اہل اسلام کا کام یہ ہے کہ دوسرے لوگ جب جنگ کی آگ بھڑکائیں تو وہ یکطرفہ تدبیر کے ذریعہ اس آگ کو ٹھنڈا کر دیں۔ گویا اہل اسلام کا طریقہ جنگ نہیں ہے بلکہ اعراضِ جنگ ہے۔ انہیں ایک طرف یہ کرنا ہے کہ جنگ کی حد تک جائے بغیر اپنے مفادات کا تحفظ کریں۔ دوسری طرف ان کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ امن کے پیغامبر بنیں۔ وہ دنیا میں امن کے تاجر ہوں، نہ کہ جنگ کے تاجر۔
اسلام کی یہی اسپرٹ ہے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلام کو جب مدینہ میں اقتدار ملاتو آپ نے ایسا نہیں کیا کہ لوگوں کو اپنا ماتحت بنانے کے لئے ان سے جنگ چھیڑ دیں۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ عرب میں پھیلے ہوئے قبائل سے گفت و شنید کر کے ان سے معاہدے کئے ۔ اس طرح آپ نے پورے عرب میں پھیلے ہوئے قبائل کو معاہدات کے ایک شیرازہ امن میں باندھ دیا۔ اسلام کی تعلیم کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلام ان اسباب کی جڑ کاٹ دینا چاہتا ہے جو جنگ کی طرف لے جانے والے ہیں۔ جنگ کرنے والا جنگ کیوں کرتا ہے۔ اس کے دو بنیادی سبب ہیں۔ ایک ہے دشمن کو ختم کرنے کی کوشش کرنا۔ اور دوسرا سبب ہے سیاسی طاقت کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ ان دونوں مقاصد کے لئے اسلام میں جنگ کا کوئی جواز موجود نہیں۔ جہاں تک دشمن کا معاملہ ہے، اس معاملہ میں جیسا کہ عرض کیا گیا، قرآن کی ایک آیت ابدی رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب
‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues